مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق "عوامی محاذ برائے آزادی فلسطین” کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہاگیا ہے کہ فلسطین کی آزادی اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کے نتیجے میں ممکن نہیں۔ اگر مذکرات سے فلسطین آزاد ہوتا توپچھلے بیس سال کے دوران آزاد ہوچکا ہوتا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ سنہ 1993 ء میں طے پایا "اسلو” معاہدہ اپنی موت آپ مرچکا ہے۔ اس معاہدے نے یہ بات ثابت کی ہے کہ فلسطینیوں کو مذاکرات کے ذریعے ان کا وطن نہیں مل سکتا ہے۔ اس لیے فلسطینی قوم کے پاس اس کے سوا اور کوئی راستہ نہیں بچا ہے کہ وہ اپنے تمام مطالبات کو اقوام متحدہ کے فورم پر اٹھائے اور فلسطین کی آزادی کے لیے اقوام متحدہ کی منظور کردہ قراردادوں پر عمل درآمد کرائے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل فلسطینی قوم کے خلاف نسل امتیاز کے بدترین طرز کو اپنائے ہوئے ہے جس کے نتیجے میں فلسطینی قوم کی زندگی اجیرن ہو کر رہ گئی ہے۔ فلسطینی قوم پر یہودی آباد کاری کی شکل میں اسرائیل نے ایک نیا عذاب مسلط کر رکھا ہے۔ اس کا حل صرف اقوام متحدہ سے رجوع کرنے میں مضمر ہے۔ عوامی محاذ نے یہودی فوجیوں کی مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی اور قبلہ اول کے محافظوں پر تشدد کو مذہبی دہشت گردی کی بدترین مثال قرار دیتے ہوئے عالمی اداروں نے اسرائیل کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
