مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق عبرانی سال نو کے پہلے دن آج اتوار کو بڑی تعداد میں یہودی آباد کاروں کو مسجد اقصیٰ میں لانے کی کوشش کی گئی تو فلسطینی شہری گھروں سے نعرے لگاتے سڑکوں پرنکل آئے۔ فلسطینی شہریوں کے سڑکوں پرآنے سے قبل القدس اور اس کے مضافات بالخصوص مسجد اقصیٰ کے قرب وجوار میں غیر اعلانیہ کرفیو نافذ کیا گیا تھا۔ ہرطرف اسرائیلی پولیس،فوج اور خفیہ اداروں کے مسلح دستے گشت کررہے تھے۔ اسرائیلی فوجیوں نے بیت المقدس میں شہریوں کے گھروں کی چھتوں پر چڑھ کرپوزیشینیں سنھبال رکھی تھیں۔
فلسطینی شہری یہودی آباد کاروں کی یلغار روکنے کے لیے گھروں سے نکلے توصہیونی پولیس اور فوج نے ان پرآنسوگیس کی شیلنگ، براہ راست فائرنگ، ربڑ کی گولیوں، دھاتی گولیوں اور بھاری آواز پیدا کرنے والے بم استعمال کیے۔ اسرائیلی فوج کی دہشت گردی کا سامنا کرتے ہوئے فلسطینی مسجد اقصیٰ کی طرف جمع ہونے لگے جہاں مسجد القبلی کے قریب فلسطینی شہریوں اور صہیونی فورسز کے درمیان تصادم ہوا۔ قابض فوجیوں نے مظاہرین پر وحشیانہ لاٹھی چارج کیا اوران پر گولیوں کی بوچھاڑ کردی جس کے نتیجے میں درجنوں افراد زخمی ہوئے ہیں۔
مقامی فلسطینی ذرائع کا کہنا ہے کہ عبرانی سال نو کے موقع پر یہودی آباد کاروں کی مسجد اقصیٰ آمد کا سلسلہ جاری ہے تاہم فلسطینی شہریوں کی جانب سے احتجاج اور کشیدگی کے بعد یہودی آباد کاروں کی تعداد کم ہوگئی ہے۔
قبل ازیں آج نماز فجر کے وقت اسرائیلی پولیس اور فوج نے فلسطینی خواتین کو مسجد اقصیٰ میں داخل ہونے سے روک دیا تھا۔ بعد ازاں 50 سال سے زائد عمر کی خواتین کو نماز ادا کرنے اور فوری طورپرواپس چلے جانے کا حکم دیا تھا۔
یہودی آباد کاروں کی متوقع یلغار کے پیش نظر مسجد اقصیٰ کی حفاظت کرنے والے فلسطینیوں کے گروپوں اور محکمہ اوقاف کے رضاکاروں نے مقدس مقام کے تحفظ کے لیے ہرممکن اقدامات کی تیاری کی تھی۔
