• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
جمعہ 6 نومبر 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home فلسطین

"زندگی کی تلخیوں اور مشکلات نے بڑھئی بنا دیا”

بدھ 09-09-2015
in فلسطین
0
plf problems
0
SHARES
0
VIEWS

کہتے ہیں کہ مشکلات انسان کو ہر راہ دکھاتی ہیں اور ضرورت ویسے ہی ایجاد کی ماں ہوتی ہے۔ فلسطین کی ایک 43 سالہ آمال ابو ارقیق نے بھی زندگی کی گاڑی چلانے کے لیے مشکلات سے لڑنے کا فن سیکھا اور آج اس کی جرات کے تذکرے اور ہنر کے چرچے فلسطین سے باہر نکل کر چار دانگ عالم میں پھیل رہے ہیں۔

مرکزاطلاعات فلسطین نے بھی فلسطین کی اس بہادر بیٹی کی زندگی کے بعض حالات واقعات سے پردہ اٹھایا ہے جو یقینا بہت سوں کے لیے حوصلے، جذبے، لگن اور محنت کا ایک استعارہ ثابت ہوگی۔

آمال ابو ارقیق کی عمراب تینتالیس سال ہے۔ اس کے خاندان کے بیشتر مرد، بھائی اور دیگر اقارب اسرائیلی ریاستی دہشت گردی اور جنگوں کے نتیجے میں جام شہادت نوش کرچکے ہیں۔ آمال کی اکلوتی اولاد ایک بیٹی ہے،مگر اس وہ آمال اپنی ذات، بیٹی اور ایک بڑے کنبے کا سہارا ہے۔

مشکلات میں گھری زندگی میں آمال نے جینے کی امنگ سیکھی اور کچھ کرنے اور کرگذرنے کا عملی مظاہرہ کرکے نہ صرف اہل فلسطین بلکہ پوری دنیا کے انسانوں کے لیے ایک نمونہ عمل پیش کیا ہے۔ آمال اپنے دست ہنرسے نہ صرف رزق حلال کما رہی ہے، بلکہ ایک کنبے کی کفالت، بچی کی تعلیم وتربیت کے ساتھ دوسروں کی رہ نمائی کا فریضہ بھی انجام دے رہی ہے۔

سوال یہ ہے کہ آمال ابو ارقیق کے ہاتھ میں ایسا کونسا ہنرہے جس نے آج اسے یہ شہرت دوام دے کر اسے ہمارے سامنے بھی ایک نمونے کے طورپر لا کھڑا کیا ہے۔ یقینا ایک دلچسپ سوال ہے اور اس کا جواب بھی حیران کن ہے۔ جی ہاں آمال ایک کارپینٹر ہے۔ اب لوگ سوال کریں گے کہ ایک خاتون پینٹر کیسے ہوسکتی ہے۔ بھلا بڑھئی اور ترکھان کا پیشا کوئی صنف نازک کیسے اختیار کرسکتی ہے۔ کیا یہ مشکل کام نہیں۔ ان تمام سوالوں کا جواب ایک ہی ہے کوئی کا مشکل نہیں فقط جذبہ، کام کا داعیہ اور عزم صمیم درکار ہوتا ہے۔

آمال ابو ارقیق کی زندگی جن مشکلوں سے گذری ہی وہی اس بارے میں بہتر جانتی ہے۔ مگر اس نے مشکلات کا مردانہ وار مقابلہ کرنے کا مظاہرہ کرکے ہڈ حراموں کے لیے نمونہ قائم کر دیا ہے۔

آمال ابو ارقیق بنیادی طورپر ایک مہاجر فلسطینی خاتون ہیں جن کا تعلق فلسطین کے علاقے غزہ کی پٹی کے نصیرات پناہ گزین کیمپ سے ہے۔ ان کا خاندان سنہ 1948 ء میں جنوبی فلسطین سے وہاں آیا اور پناہ گزین کیمپ میں رہائش اختیار کی۔

سنہ 2003 ء میں جب آمال کے پاس کوئی ذریعہ معاش نہیں تھا، ایک مقامی تنظیم نے اس کی زندگی بدلنے میں اہم کرادار ادا کی۔ خواتین کی پیشہ وارانہ تعلیم میں سرگرم ایک تنظیم” SEC ” نے غرب اردن اور غزہ سے سات ساتھ خواتین کا انتخاب کیا، جو بے روزگار تو تھیں ہی مگر اپنے ہاتھ سے کمانے کا عزم بھی رکھتی تھیں۔ اس تنظیم نے ان خواتین کو مختلف کام سکھائے۔ آمال نے بڑھئی کام پیشہ پسند کیا اور اس کام کو سیکھنے کی تگ و دو شروع کردی۔ دس سال قبل اس نے یہ کام شروع کیا تو بہت سے لوگ اس کے اس کام پر تعجب کا اظہار کرتے تھے۔ مگر اس نےلوگوں کی قیل وقال کی کوئی پرواہ نہیں کی۔ اپنا مشن جاری رکھا اور کچھ ہی عرصے میں اس نے فرنیچر، گھروں میں ڈیکوریشن کا سامان اور دیگرچیزیں بنانا سیکھ لیں۔ مگر اس کے پاس باقاعدہ اسے پیشے کو منظم کرنے کے لیے سرمایہ نہیں تھا۔ تنظیم کی جانب سے اسے کام کے لیے اوار تو مفت میں دے دیے مگر اس کے لیے مشکل یہ تھی کہ وہ یہ کام آگے کیسے بڑھائے۔ چنانچہ اس نے اپنے عزیزو اقارب کی مدد سے، خام لکڑیاں جمع کرکے چھوٹی چھوٹی اشیا، میز، کرسیاں، الماریاں اور بیڈ تیار کرنا شروع کردیے۔ دیکھتے ہی دیکھتے لوگ اس کے پاس فرنیچر خریدنے کے لیے بھی آنا شروع ہوگئے اور اس کی بکری میں اضافہ ہونا شروع ہوگیا۔ لوگوں کو آمال کی بنائی اشیاء پسند آنے لگیں تو اسے بھی اپنے کام کا صلہ اور حوصلہ ملنا شروع ہوگیا۔

آمال کو اب کیا مشکلات درپیش ہیں

آمال ابو ارقیق اب غزہ کی پٹی ہی نہیں بلکہ فلسطین سے باہر کی دنیا میں بھی اپنے فن اور جرات وہنر مندی سے دنیا کو متاثر کرنے لگی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ اب اس کے پاس گاہک زیادہ ہوتے ہیں اور وہ سب کی طلب پوری نہیں کرپاتی۔ آمال نے بتایا کہ غزہ کی پٹی میں بجلی کی طویل لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے اس کا کام بری طرح متاثر ہوتا ہے۔ اسے دستی اوزاروں سے کام چلانا پڑتا ہے مگر اس طرح وقت بہت لگ جاتا ہے۔

آمال نے بتایا کہ بعض اوقات میرے پاس دسیوں افراد مختلف اشیاء بنوانے آتے ہیں مگر میرے پاس وقت نہیں ہوتا کہ میں ہرایک کی ضرورت کی چیز اسے بروقت تیار کرکے دے سکوں۔

جب آمال کی ہنرمندی کا چر النصیرات پناہ گزین کیمپ میں پھلا تو صحافیوں اور اخباری نمائندوں نے بھی اس سے رابطے شروع کردیے۔ ذرائع ابلاغ میں اس کے تذکروں نے سوشل میڈیا میں بھی مشتہر کردیا۔

آمال کا کہنا ہے کہ اس کے محنت آج اس کے کام آ رہی ہے۔ غزہ کی پٹی کے اندر سے بھی لوگ اس کے ساتھ معاونت کررہے ہیں اور کئی فلاحی تنظیموں نے کام کو مزید منظم بنانے کے لیے اپنی جانب سے مالی تعاون کے بھی وعدے کیے گئے ہیں۔ سوشل میڈیا کے ذریعے بھی لوگ مالی معاونت کا یقین دلا رہے ہیں۔ مگر اس کی سب سے بڑی مشکل صرف بجلی کی عدم دستیابی ہے۔ جس کی وجہ سے فرنیچر کی تیاری کے لیے استعمال میں ہونے بعض مشینیں چل نہیں سکتیں اور کام رکا رہتا ہے۔

آمال اور اس کے شوہر کےدرمیان بیس سال قبل علاحدگی ہوگئی تھی جس کے بعد اکلوتی بیٹی کی اور گھر کے دوسرے افراد کی ضروریات کا بوجھ آمال کے کندھوں پرآگیا تھا۔ مگر اس نے ہمت نہیں ہاری۔

جب اسے پوچھا گیا کہ آپ نے ایک مردانہ پیشہ اپنایا تو اس راہ میں تکنیکی مشکلات پیش آئیں یا خاندان کی جانب سے روکنے کی کوشش کی گئی تو آمال نے بتایا کہ مجھے کسی کی جانب سے منع نہیں کیا گیا شروع میں مجھے یہ کام کافی مشکل ضرور لگ رہا تھا۔لیکن میں نے یہ عزم کررکھا تھا کہ اس کام کو ایک چیلنج کے طورپر کروں گی اور اس میں مہارت حاصل کروں گی۔ انہوں نے کہاکہ عموما انسان مشکل چیلنجز کو قبول کرنے کو تیار نہیں ہوتے لیکن انسان اتنے کمزور بھی نہیں ہوتے کہ جب چیلنج قبول کرلیں تو اسے منطقی انجام تک نہ پہنچا سکیں۔

آمال ابو رقیق نہ صرف ایک عام شہری ہیں بلکہ وہ ایک زندہ دل فلسطینی خاتون ہیں جس کے کئی قریبی عزیز جام شہادت نوش کرچکے ہیں۔ آمال کو فلسطینی قوم کے روحانی پیشوا الشیخ احمد یاسین شہید اور یاسرعرفات سے یکساں لگائو ہے۔ اس کا اظہار اس کی اس ننھی منھی ورکشاپ سے بھی ہوتا ہے جس کی ایک دیوار پر الشیخ احمد یاسین شہید اور یاسرعرفات شہید کی تصایویر ایک ساتھ آویزاں کی گئی ہیں۔ ان تصاویر کو خوبصورت اور دیدہ زیب فریموں میں بھی آمال نے خود نصب کیا ہے۔

آمال کی بیٹی ایک ذہنی مرض کا شکار ہے اور اس کے علاج کے لیے بھی اس نے بہت پیسا خرچ کیا، تاہم اب اس کی ہمہ وقت دیکھ بحال بھی اس کی کی ذمہ داری ہے کیونکہ گھر کا کوئی دوسرا فرد یہ کام نہیں کرسکتا ہے۔

ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.