مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق یورپی یونین کی خارجہ امورکے سربراہ فیڈریکا موگرینی نے لکسمبرگ میں یورپی وزراخارجہ کے اجلاس کے بعد ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یورپی منڈیوں میں مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی کارخانوں میں تیار ہونے والی مصنوعات پر "بائیکاٹ کا ٹیگ” لگانے کا اصولی فیصلہ کرلیا گیا ہے اور تمام یورپی ملکوں نے اس فیصلے کی متفقہ طورپر منظوری دی ہے۔
مسز موگرینی کا کہنا تھا کہ اگرچہ ابھی تک اسرائیل کی متنازع سمجھی جانے والی مصنوعات یورپی منڈیوں میں فروخت ہو رہی ہیں مگر اب ہم ان مصنوعات کے بائیکاٹ کے بہت قریب آچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیلی مصنوعات کے بائیکاٹ کا فیصلہ کئی سال قبل کیا گیا تھا تاہم بعض تکنیکی وجوہات کی بناء پر اس پرعمل درآمد نہیں کیا جاسکا تھا۔
ادھر لکسمبرگ کے وزیرخارجہ جان اسیلبورن کا کہنا ہے کہ یورپی ممالک نے متنازع فلسطینی علاقوں میں تیار کی جانے والی مصنوعات کے بائیکاٹ کا فیصلہ متفقہ ہے تاہم اس پرحتمی طورپرعمل درآمد میں مزید چند ماہ لگ سکتے ہیں۔ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ رواں سال کے آخرتک تمام یورپی منڈیوں میں متنازع صہیونی مصنوعات پربائیکاٹ کی مہر لگا دی جائے گی۔
دوسری جانب اسرائیلی میڈیا نے یورپی منڈیوں میں صہیونی مصنوعات کے بائیکاٹ پر سخت واویلا کیا ہے اور اسے فلسطینیوں کی حامی تنظیموں کی مہمات کا نتیجہ قرار دیا ہے۔
اسرائیلی اخبار”ہارٹز” کے مطابق یورپی یونین کے تمام ممالک اسرائیلی مصنوعات کے بائیکاٹ کے حق میں نہیں ہیں مگر انہیں بعض اداروں اور تنظیموں کی جانب سے سخت دبائو کا سامنا ہے۔ اخباری رپورٹ میں دعویٰ کیا گیاہے کہ یورپی یونین کی خارجہ امور کی ہائی کمشنر فیڈریکا موگرینی بھی ذاتی طورپر اسرائیلی مصنوعات کے بائیکاٹ کے فیصلے پر فخر نہیں کرتیں۔ انہوں نے یہ اعلان بعض ممالک کے دبائو کی وجہ سے کیا ہے۔
خیال رہے کہ یورپی یونین کے 28 رکن ممالک میں سے 16 نے رواں سال اپریل میں یونین کی خارجہ امور کی سربراہ کو ایک مکتوب ارسال کیا تھا جس میں ان سے اسرائیلی مصنوعات کے بائیکاٹ کا جلد از جلد فیصلہ کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
واضح رہےکہ فلسطین کے سنہ 1967 ء کی جنگ میں اسرائیلی تسلط میں آنے والے علاقوں غرب اردن اور بیت المقدس کو عالمی سطح پر متنازع خیال کیا جاتا ہے۔ ان علاقوں میں قائم یہودی کالونیاں اور کارخانے بھی متنازع قرار دیے جاتے ہیں۔ یورپی یونین کی جانب سے کہا گیا ہے کہ وہ متنازع علاقوں میں قائم کارخانوں میں تیار ہونے والی مصنوعات کو اپنے ہاں فروخت کرنے کی حمایت نہیں کرسکتی کیونکہ ایسا کرنے سے متنازع فلسطینی علاقوں کی حیثیت متاثر ہوتی ہے۔
