مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق مفتی اعظم فلسطین نے مسجد اقصیٰ میں نماز جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صہیونی اشرار کے ہاتھوں نہ تو مسلمانوں کے مقدس مقامات محفوظ ہیں اور نہ ہی مسیحی برادری کی عبادت گاہیں محفوظ ہیں۔ حتیٰ کہ مسلمانوں اور عیسائیوں کے قبرستانوں پربھی اسرائیلی انتہا پسند حملے کرکے مقابر کی بے حرمتی کا ارتکاب کرتے ہیں۔
الشیخ محمد حسین کا کہنا تھا کہ قبلہ اول کے دفاع کے لیے فلسطینی عوام کا کردار بنیادی اور کلیدی نوعیت کا ہے۔ فلسطینی قبلہ اول کے دفاع کا ہراول دستہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ میں فلسطینی عوام سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ مسجد اقصیٰ سے اپنا تعلق مضبوط بنائیں۔ پانچوں نمازیں قبلہ اول میں ادا کرکے صہیونیوں کی ناپاک سازشوں کو خاک میں ملا دیں۔
مفتی اعظم فلسطین کا کہنا تھا کہ مسجد اقصیٰ ہراعتبار سے صرف مسلمانوں کی ملکیت ہے جس پرکسی دوسری ملت یا مذہب کا کوئی حق نہیں ہے۔ صہیونی عالم اسلام کو قبلہ اول سے محروم کرنا چاہتے ہیں اور اس مقدس مقام کی جگہ مذموم ہیکل سلیمانی کی بنیادیں رکھنے کے بعد دنیا میں اشتعال کی نئی شروعات کررہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مسجد اقصیٰ کے دفاع کے لیے اب تک جتنا کچھ ہوا وہ ناکافی ہے۔ اگر اللہ رب العزت کی رحمت اور نصرت شامل حال نہ ہوتی تو صہیونی کب کے قبلہ اول کو مسلمانوں سے چھین چکے ہوتے۔
الشیخ محمد حسین نے بیت المقدس میں مسلمانوں کے تاریخی قبرستانوں بالخصوص”مامن اللہ” اور "الرحمہ” قبرستانوں پرصہیونیوں کے غاصبانہ قبضے کی شدید مذمت کی اور مسلم ممالک کی حکومتوں سے پرزور مطالبہ کیا کہ وہ فلسطین میں مقابر اور مساجد کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کریں۔
