مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق "انین القید” نیٹ ورک کی جانب سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ بچی نے کی رام اللہ کےایک اسپتال میں ہوئی۔ دونوں ماں بیٹی صحت مند ہیں۔ بچی کا نام "حمام” رکھا گیاہے۔ مصنوعی طریقے سے پیدا ہونے والی بچی کے والد اسرائیل کی عوفر جیل میں قید ہیں جہاں وہ چھ سال قید کاٹ چکے ہیں۔ ۔ سنہ 2014 ء میں اسرائیل کی ایک عدالت نے انہیں مزید دو سال قید کی سزا کا حکم دیا تھا۔
خیال رہے کہ فلسطین میں کسی قیدی کے ہاں مصنوعی طریقے سے مادہ تولید کی رحم مادر میں منتقلی اور اس کے ذریعے بچے کی پیدائش کا یہ پہلا واقعہ نہیں۔ حال ہی میں غزہ کی پٹی سے تعلق رکھنے والے ایک فلسطینی 35 سالہ احمد السکنی کی اہلیہ کو جڑواں بچے پیدا ہوئے تھے۔
صہیونی فوج نے احمد السکنی کو سنہ 2002 ء میں حراست میں لیا۔ ان پر اسلامی جہاد سے تعلق کے الزام میں مقدمہ چلایا گیا اور عدالت نے انہیں 27 سال قید بامشقت کی سزا کا حکم دیا۔
السکنی کا ایک بیٹا طارق 14 جولائی 2013 ء کو غزہ کی پٹی میں ایک ٹریفک حادثے میں وفات پاگیا تھا۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے اسرائیلی جیل میں قید السکنی کا نطفہ حاصل کیا اور اسے جدید سائنسی طریقے کے تحت اس کی اہلیہ کے رحم میں منتقل کردیا جہاں اللہ نے اسے جڑواں بیٹے دیے ہیں۔
