اسرائیل کی جیلوں میں پابند سلاسل قید تنہائی کے شکار فلسطینیوں میں حسام یوسف عزت عمر پچھلے تین سال سے الرملہ عقوبت خانے کے "ایالون” نامی قید خانے میں بند ہیں جہاں انہیں
مسلسل قید تنہائی میں رکھا گیا ہے۔ بنیادی انسانی حقوق سے محروم فلسطینی نے عالمی برادری سے اپنی قید تنہائی ختم کرانے میں مدد کی اپیل کی ہے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق فلسطینی شہری 37 سالہ حسام یوسف عمر مغربی کنارے کے طولکرم شہر میں دیر الغضون سے تعلق رکھتا ہے جو پچھلے تین سال سے مسلسل قید تنہائی کا شکار ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیم” مرکز احرار” کی جانب سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ حسام یوسف عمر کو یکم نومبر 2012 ء کو حراست میں لیا۔ اس پراسرائیلی فوجیوں کے اغواء کی منصوبہ بندی کرنے کا الزام عاید کیا گیا ہے۔ اسیر کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ وہ پچھلے تین سال سے حسام سے ملاقات نہیں کرسکے ہیں۔ وہ جب بھی جیل جاتے ہیں توانہیں دھکے دے کر واپس کردیا جاتا ہے۔ جیل میں قیدیوں کے ایک ذریعے سے پتا چلا ہے کہ حسام کو قید تنہائی میں کسی تنگ اور تاریک کوٹھڑی میں ڈالا گیا ہے جہاں اس کا کسی سے بھی رابطہ نہیں ہے۔ قید تنہائی کا شکار فلسطینی کی ایک بیٹی ہے جس کی عمر اب بارہ سال ہے۔ وہ اپنے والد کی اس مصیبت بھری قید سے سخت پریشان ہے۔
خیال رہے کہ حسام یوسف عمر کو صہیونی فوج نے سنہ 2002 ء میں غرب اردن سے حراست میں لیا۔ اس پر اسرائیلی فوجویں کے اغواء سمیت متعدد دیگر الزامات کے تحت مقدمہ چلایا گیا۔ اسرائیلی عدالت نے اسے 26 سال قید با مشقت کی سزا سنائی ہے۔
حسام کے تین دوسرے بھائی بھی اسرائیلی جیلوں میں پابند سلاسل ہیں۔ 30 سالہ موید عمر کو 22 ماہ قید کا سامنا ہے جو اس وقت جزیرہ نما النقب کی جیل میں قید ہے۔ 23 سالہ حسن عمر کو 3 سال قید اور 10 ہزار شیکل جرمانہ کی سزا سنائی گئی ہے اور حسام عمر سے چھوٹا مروان عمر کو چار سال قید کی سزا کا سامنا ہے۔ موخرالذکر دونوں اس وقت "ھداریم” جیل میں قید ہیں۔
