مرکزاطلاعات فلسطین کو ملنے والی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ یہودی آباد کاروں نے مسجد اقصیٰ کے مراکشی دروازے کے راستے قبلہ اول میں داخل ہوکراشتعال انگیز انداز میں مذہبی رسومات ادا کیں۔یہودیوں کی آمد کے وقت مسجد میں آنے والی فلسطینی خواتین اور طلباء کو اندر جانے سے روک دیا گیا۔
عینی شاہدین نے بتایا کہ یہودی شرپسندوں نے مسجد اقصیٰ میں گھر کرنہ صرف مقدس مقام کی کھلے عام بے حرمتی کی بلکہ مذہبی رسومات کی ادائی کے ساتھ مذعومہ ہیکل سلیمانی کی تعمیر کے حوالے سے یہودیوں کو بریفنگ دی گئی۔
مسجدا قصیٰ میں یہودیوں کی آمدکے وقت فلسطینی شہر بند ہو کر رہ گئے تھے۔ مسجد سے باہر آنے والوں کو بھی وہاں سے ہٹا دیا گیا اور جب تک یہودی آباد کار اندر تھے اس وقت تک فلسطینیوں کے قبلہ اول میں آنے جانے پرپابندی عاید کردی گئی تھی۔
