مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق سوموار کے روز فلسطین میں نئے تعلیمی سال کا آغاز ہوا اور تمام اسکول کھل گئے۔ بیت المقدس میں مسجد اقصیٰ کے اسکولوں میں آنے والے سیکڑوں بچوں اور بچیوں کو اسکول جانے سے روک دیا گیا۔ طلباء وطالبات کو بلا جواز زدو کوب کیا گیا اور انہیں گھنٹوں سڑکوں پر کھڑے کرکے ان کی شناخت پریڈ کی گئی۔
تفصیلات کے مطابق سوموار کے روز معمول کے مطابق فلسطینی طلباء اپنے اسکول کے پہلے دن تیاری کے ساتھ اسکول کے لیے مسجد اقصیٰ پہنچے تووہاں پر موجود اسرائیلی پولیس اور فوجی اہلکاروں نے انہیں روک لیا۔ ان کی شناخت پریڈ کی گئی اور ان کی چھانٹی کرنے کے بعد بعض طلباء کو اندر جانے کی اجازت دے دی گئی اور بیشتر طلباء کوگھنٹوں اسکول کے باہر ہی کھڑے رکھا گیا۔
پی آئی سی کے نامہ نگار کے مطابق مسجد اقصیٰ کےاندر واقع اسکول کے بچوں کو مسجد کے باب السلسلہ سے اندر جانا تھا لیکن انہیں دروازے کے باہر ہی روک دیا گیا۔ اس دوران اسکول کے بعض معلمین اور معلمات بھی وہاں پہنچیں تو ان کے ساتھ بھی توہین آمیز سلوک کیا گیا۔ روکے گئے اسکول کے بچوں کی کئی گھنٹی جاری رہنے والی شناخت پریڈ کے بعد انہیں ایک دوسرے دروازے”باب الناظر” سے اندر جانے کی اجازت دی گئی۔
اسی دوران فلسطینی وزارت اوقاف ومذہبی امور کی جانب سے طلباء و طالبات کے لیے مسجد اقصیٰ کے اندر کتب بھجوائی گئیں تو صہیونی پولیس نے وہ بھی بچوں تک پہنچنے سے روک دیں۔ بعد ازاں بچوں اور بچیوں کو باہر بلا کران میں کتب تقسیم کی گئیں۔
فلسطینی وزارت اوقاف کے ڈائریکٹر نے اسرائیلی پولیس کے اس اقدام کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو اسکولوں سے روکنا صہیونیوں کی فلسطین دشمنی کا واضح ثبوت ہے۔ اس سے یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیل فلسطینیوں کی نئی نسل کو دانستہ طورپر ناخواندہ رکھنے کی سازش کررہا ہے۔
