انسانی حقوق کی تنظیم "مرکزا احرار” کی جانب سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ صہیونی جیلوں میں قید فلسطینی ارکان پارلیمنٹ میں مروان البرغوثی سر فہرست ہیں۔ وہ تحریک فتح کے رہ نما ہیں اور انہیں پانچ بار عمر قید اور چالیس سال اضافی قید کی سزا کا سامنا ہے۔ اس کےبعد عوامی محاذ برائے آزادی فلسطین کے سیکرٹری جنرل احمد سعدات 30 سال کے لیے پابند سلاسل ہیں۔
اسرائیلی جیلوں میں قید فلسطینی ارکان پارلیمنٹ میں سےدو کا تعلق اسلامی تحریک مزاحمت "حماس” کے ساتھ ہے۔ حماس کے ارکان پارلیمنٹ جمال النتشہ اور محمد بدر کو انتظامی حراست میں رکھا گیا ہے۔ جمال انتشہ کو 27 مارچ 2013 ء کو حراست میں لیا گیا تھا۔ انہوں نے پچھلے سال ساٹھ دن تک اپنی بلا جواز اسیری کے خلاف بھوک ہڑتال کی تھی۔
رکن پارلیمنٹ محمد بدر کو بھی سنہ 2013 ء میں حراست میں لیا گیا تھا اور سنہ 2014 ء میں وہ بھی دو ماہ تک اسرائیلی جیلوں میں بھوک ہڑتال کرچکے ہیں۔ اسرائیل کے ہاں زیرحراست فلسطینی ارکان پارلیمنٹ میں ایک خاتون خالدہ جرار بھی ہیں۔ انہیں رواں سال اپریل میں حراست میں لیا گیا تھا۔
