اسرائیلی پولیس بیت المقدس سے تعلق رکھنے والے تین فلسطینی بچوں کو مسجد اقصیٰ میں داخل ہونے پر حراست میں لینے کے بعد "بیت الیاھو” نامی حراستی مرکز میں منتقل کردیا ہے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق سوموار کی شام قبلہ اول میں نماز کے لیے آنے والے تین بچوں مہدی ابو عصب، احمد السلائمہ اور ادھم زعتری کو ہتھکڑیاں لگائیں جس کے بعد بیت المقدس میں مسجد اقصیٰ کے باب السلسلہ کے قریب قائم اسرائیلی پولیس سینٹر منتقل کردیا گیا۔درایں اثناء صہیونی پولیس نے گذشتہ روز علی الصباح حراست میں لی گئی ایک فلسطینی خاتون کو رہا کردیا ہے۔ جب اس کے ساتھ حراست میں لی گئی ایک خاتون تا حال حراستی مرکز میں ہے۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ سوموار کے روز مسجد اقصیٰ کے باب السلسلہ کے قریب فلسطینی شہریوں اور اسرائیلی فوج کے درمیان کشیدگی پیدا ہوئی جس کے بعد صہیونی فورسز نے فلسطینی خواتین کو قبلہ اول میں داخل ہونے سے روک دیا تھا۔ صہیونی فوجیوں نے مسجد اقصیٰ میں نماز کی ادائی کے لیے آنے والی فلسطینی خواتین کی جامہ تلاشی لینے کی کوشش کی جس پر خواتین نے احتجاج کیا۔ قابض فورسزنے فلسطینی خواتین کے ساتھ نہایت توہین آمیز سلوک کیا اور انہیں قبلہ اول میں داخل ہونے سے روک دیا گیا۔
قبل ازیں بیت المقدس اور غرب اردن میں اسرائیلی فوجیوں نے تلاشی کی کارروائیوں میں آٹھ فلسطینیوں کو حراست میں لینے کے بعد نامعلوم مقامات پر منتقل کیا۔
اسرائیل کے عبرانی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق صہیونی سیکیورٹی فورسز نے غرب اردن کے مختلف شہروں میں تلاشی کی کارروائیوں میں چھ فلسطینیوں کو حراست میں لیا۔ حراست میں لیے گئے افراد میں بعض یہودی آباد کاروں پر سنگ باری اور دیگر مزاحمتی کارروائیوں میں ملوث ہیں۔ صہیونی فوج کی تلاشی کی کارروائیوں میں بیت المقدس سے دو فلسطینیوں کو عیسویہ کے مقام سے حراست میں لے لیا گیا۔
