اسلامی تحریک مزاحمت "حماس” نے فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے تنظیم آزادی فلسطین کی تشکیل نو کے فیصلے کو یک طرفہ اور آمرانہ قرار دیتے ہوئےفیصلے پر کڑی نکتہ چینی کی ہے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق حماس کے ترجمان سامی ابو زھری نے ایک بیان میں کہا کہ صدر محمود عباس جس پالیسی پرچل رہے ہیں وہ قومی اتفاق رائے کے خلاف ہے۔ اس سے یہ واضح ہوگیا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی اور صدرمحمود عباس قومی مفاہمت کو آگے بڑھانے کے بجائے یک طرفہ فیصلے کررہےہیں۔ترجمان نے کہا کہ صدر محمود عباس اور تنظیم آزادی فلسطین کے نو ارکان کی جانب سے "پی ایل او” کی بنیادی رکنیت سے استعفے دینا اور تنظیم کی تشکیل نو کا اعلان اتفاق رائے سے نہیں کیا گیا۔ اگر تنظیم آزادی فلسطین کی تشکیل نو کرنے کی ضرورت ہے تو تمام نمائندہ قوتوں کو بھی اس میں شامل کیا جائے۔
خیال رہے کہ گذشتہ روز فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ اور پی ایل او کے نو ارکان نے ایگزیکٹو کمیٹی کی رکنیت سے استعفے دینے کا اعلان کیا تھا۔ فلسطینی اتھارٹی کے ایک عہدیدار کا کہنا ہے کہ کمیٹی کی تشکیل نو کی جائے گی جس میں ارکان کا نئے سرے سے چنائو عمل میں لایا جائے گا۔
