مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق نابلس شہر میں عباس ملیشیا کے انٹیلی جنس حاکم نے جامعہ النجاح سے وابستہ انجینیرنگ کالج کے استاد مومن صباح کو حڑاست میں لینے کے بعد حراستی مرکز منتقل کردیا ہے۔
الخلیل شہرمیں بھی عباس ملیشیا کے اہلکاروں نے یتیم بچوں کی کفالت کرنے والے ایک فلاحی ادارے کے سربراہ فضل الجبارین کے وارنٹ جاری کرتے ہوئے انہیں فوری طور پر خود کو حکام کے حوالے کرنے کا نوٹس جاری کیا ہے۔
الخلیل شہر میں ایک مقامی صحافی عامر ابو عرفہ نے بتایا کہ عباس ملیشیا کے اہلکاروں نے ہفتے کے روز سماجی رابطے کی ویب سائیٹ "فیس بک” پر سنہ 2014 ء میں فلسطینی اتھارٹی کی ایک خبر پوسٹ کرنے پر فضل جبارین کے گھر پرچھاپہ مارا تاہم گھر پرموجود نہ ہونے کے باعث ان کی گرفتاری عمل میں نہیں لائی جاسکی۔ عباس ملیشیا نے اس کے اہل خانہ کو نوٹس حوالے کیا جس میں جبارین کو خود کو حکام کے حوالے کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
ادھر عباس ملیشیا کی جانب سے حراست میں لیے گئے پولیٹکنیک انسٹیٹٰوٹ کے طالب علم مجاھد قواسمہ کو اس کی بھوک ہڑتال کے باوجود حراست میں رکھا ہوا ہے جب کہ ایک دوسرے طالب علم اسامہ قیسیہ بھی عباس ملیشیا کی حراست میں ہیں جہاں اسے تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
رام اللہ سے حراست میں لیے گئے فلسطینی ولید ربیع کی بلا جواز گرفتاری کا آج 14 واں دن ہے جب کہ ان کے صاحبزادے کو پچھلے 27 دن سے حراست میں رکھا گیا ہے۔
