مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق مسجدا قصیٰ میں نماز جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ممتاز فلسطینی عالم دین کا کہنا تھا کہ تفرقہ بازی اور لڑائی جھگڑے ہماری کمزوری ہیں سے جن سے ہمارا مشترکہ دشمن فائدہ اٹھا رہا ہے۔ اس لیے تمام فلسطینی فرقہ واریت کی لعنت سے دور رہتے ہوئے اپنی صفوں میں اتحاد ویکجہتی کا مظاہرہ کریں۔
امام مسجد اقصیٰ نے غزہ کی پٹی پراسرائیل کی مسلط کردہ معاشی پابندیوں کی بھی مذمت کی اور کہا کہ غزہ کی ناکہ بندی فلسطین کی نمائندہ قوتوں کےدرمیان انتشار کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے اسرائیلی جیلوں میں قیدیوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کی شدید مذمت کی اور تمام فلسطینیوں کی بلا تاخیر رہائی کا مطالبہ کیا۔ الشیخ ابوسنینہ کا کہنا تھا کہ وطن کی آزادی اور مقدس مقامات کے دفاع میں کسی قسم کی کمزوری اور کوتاہی قابل برداشت نہیں ہے۔ اسرائیلی حکومت کی سرپرستی میں ناپاک یہودی روز مرہ کی بنیاد پر قبلہ اول میں داخل ہوکراس مقدس مقام کی کھلے عام بے حرمتی کے مرتکب ہوتے ہیں۔ قبلہ اول کے محافظوں اور نمازیوں پر وحشیانہ تشدد کرتے ہیں۔ اسرائیلی پولیس اور فوج انتہا پسندوں کو سیکیورٹی مہیا کرتی اور فلسطینیوں پرپابندیاں عاید کرتی ہے۔
الشیخ ابو سنینہ نے مسجد اقصیٰ پر اسرائیلی آبادکاروں کی یلغار کوظالمانہ قرار دیتے ہوئے کہاکہ فلسطینی عوام ذمہ داری کا مظاہرہ کریں اور قبلہ اول میں اپنی زیادہ سے زیادہ حاضری کو یقینی بنائیں۔
قبلہ اول کے امام وخطیب نے پوری مسلم امہ کی جانب سے مسجد اقصیٰ کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں دا کرنے میں کوتاہی پر کڑی تنقید کی اور کہاکہ قبلہ اول کونذرآتش کرنے کی خوفناک سازش کو 46 سال گذر چکے ہیں مگر آج تک مسجد اقصیٰ کے دفاع کے لیے عالم اسلام کی جانب سے کوئی موثر کوشش نہیں کی گئی۔ عالم اسلام کی مجرمانہ غفلت انتہا پسند صہیونیوں کو قبلہ اول کے خلاف سازشیں آگے بڑھانے کا حوصلہ فراہم کررہی ہے۔
خیال رہے کہ کل نماز جمعہ کے موقع پراسرائیلی فوج اور پولیس کی جانب سے فلسطینیوں کے قبلہ اول میں نماز کے لیے انے پرسخت ترین پابندیاں عاید کی گئی تھیں۔ غزہ کی پٹی کے 300 شہریوں کو جن کی عمریں 50 سال سے زائد تھیں قبلہ اول میں نماز جمعہ کی ادائی کی اجازت دی گئی۔
