مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق بیت المقدس میں چودہ سو سال پرانے قبرستان”مامن اللہ” میں اسرائیلی حکومت نے ایک نائٹ کلب، شراب خانےاور ہوٹل کی تعمیر کا کام کئی ماہ قبل شروع کیا۔ ہوٹل کی عمارت مکمل کرلی گئی تھی جسے پچھلے ماہ باضابطہ طورپر کھولانا جانا تھا تاہم ہوٹل کا افتتاح موخر کردیا گیا تھا۔ کل اتوار کے روز بیت المقدس کی اسرائیلی بلدیہ نے ہوٹل کا باضابطہ افتتاح کردیا ہےاور ساتھ ہی قحبہ خانے کی تعمیر و مرمت کا کام تیزی سے جاری ہے۔
خیال رہے کہ بیت المقدس میں واقع "مامن اللہ” نامی قبرستان چودہ سو سال پرانا ہے جس میں کئی جلیل القدر صحابہ کرام، تابعین اور بزرگان دین کی آخری آرام گاہیں موجود ہیں۔ اسرائیل نے قبرستان کے بیشتر حصے کی قبریں ہموار کرنے کے بعد وہاں پر تعمیرات کا کام شروع کردیا تھا۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق کل اتوار کے روز کھولے گئے ہوٹل میں ایک ہی وقت میں کم سے کم 100 افراد کوکھانا فراہم کیا جاسکے گا۔ یہ ہوٹل چوبیس گھنٹے کھلا رہے گا جس کی براہ راست سرپرستی اسرائیلی حکومت خود کرے گی۔
مسجد اقصیٰ کی تعمیرو مرمت کے ذمہ دار ادارے”الاقصیٰ فائونڈیشن وٹرسٹ”کی جانب سے جاری ایک بیان میں مامن اللہ قبرستان میں اسرائیلی بلدیہ کے زیراہتمام ہوٹل کے افتتاح کی تصدیق کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ فائونڈیشن کی ٹیم نے خود موقع پر ہوٹل پر لوگوں کو کھانے پینے میں مصروف دیکھا ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
