مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق اردنی وزیر برائے اوقاف ومذہبی امور ھائیل دائود نے اپنے ایک بیان میں صرف اتنا کہا ہے کہ عمان کے تین محافظوں کو قبلہ اول سے واپس بلایا گیا ہے۔ تاہم انہوں نے محافظوں کی واپسی کے سیاسی اوریا سیکیورٹی محرکات کی تردید کی۔ دوسری جانب اردنی حکومت کے ایک ذریعے کا کہنا ہے کہ قبلہ اول کی حفاظت پرمامور تین اہلکاروں کی واپسی سیکیورٹی وجوہات کی بناء پرعمل میں لائی گئی ہے۔ حالیہ دنوں میں یہودی آباد کاروں کی جانب سے قبلہ اول پرحملوں میں غیرمعمولی اضافہ ہوا ہے، اس لیے وہاں پرمتعین اردنی سیکیورٹی اہلکاروں کو خطرات لاحق ہیں۔ فلسطینی شہریوں بالخصوص قبلہ اول کے دفاع میں سرگرم تنظیموں نے اردنی حکومت کی اس انوکھی منطق کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ حالات میں مسجد اقصیٰ کی حفاظت کی پہلے سے زیادہ ضرورت ہے، لیکن عمان حکومت نے محافظوں کو بلا کرقبلہ اول کو تنہا کرنے کی کوشش کی ہے۔
مسجد اقصیٰ کے ایک محافظ نے بتایا کہ اردنی حکومت نے تین اہم محافظوں کو واپس بلالیا ہے۔ محافظوں کی اسرائیلی فوج اور سیکیورٹی اداروں کی جانب سے شکایت پرکی گئی ہے۔ اسرائیلی حکام نے شکایت کی تھی کہ مسجد اقصیٰ میں تعینات اردن کے تیس سے زائد محافظ یہودی آباد کاروں کی وہاں پرعبادت کی راہ میں خلل ڈالتے ہیں جس کے بعد اردنی حکومت نے محافظوں کی تعداد کم کردی ہے۔
اسرائیلی اخبارات کی رپورٹس کے مطابق حالیہ دنوں میں اسرائیلی فوج نے مسجد اقصیٰ کا سیکیورٹی کا تمام انتظام اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش کرتے ہوئے فلسطینی رضاکاروں کو وہاں سے ہٹانے کا سلسلہ شروع کیا ہے۔
یاد رہے کہ اردنی حکومت اسرائیل کے ساتھ طے پائے وادی عربہ معاہدے کے تحت بیت المقدس کے تمام مقدس مقامات بالخصوص مسجد اقصیٰ کی نگرانی اور اس کی حفاظت کی ذمہ دار ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
