اسرائیل کے عبرانی اخبار”یسرائیل ھیوم” نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ نائب وزیر خارجہ "زیپی حوطوبیلی” کی جانب سے دنیا بھرمیں اسرائیلی سفارت خانوں کو ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ صہیونی ریاست کی مصنوعات کے بائیکاٹ کےحوالے سے ہونے والی مہمات کو ناکام بنانے کے لیے بھرپور اور جاندار سفارتی کردار ادا کریں۔ اس کے ساتھ ساتھ اسرائیلی وزارت خارجہ نے ایسے ماہرین قانون کو بھرتی کرنا شروع کیا ہے جو عالمی فوج داری عدالت میں متوقع طورپر اسرائیل کے خلاف کھولے جانے والے مبینہ جنگی جرائم کے مقدمات کی پیروی کرسکیں اور اسرائیل کی وکالت کرتے ہوئے صہیونی ریاست کا مقدمہ لڑیں۔
رپورٹ کے مطابق نائب وزیرخارجہ نے جمعرات کے روز تل ابیب میں ماہرین قانون کے ایک گروپ سے ملاقات کی۔ اس موقع پرعالمی ماہرین قانون کی خدمات حاصل کرنے، ذرائع ابلاغ کے ذریعے اسرائیل کی عالمی سفارت خانوں کی سفارت کاری کو اجاگر کرنے اور بائیکاٹ کی مہمات کو ناکام بنانے کے لیے موثر کرادار ادا کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ نائب وزیرخارجہ کی جانب سے تمام سفارت خانوں کو ایک مراسلہ بھی ارسال کیا گیا ہے جس میں انہیں ہدایت کی گئی ہے کہ وہ نہ صرف اسرائیلی مصنوعات کے بائیکاٹ کے حوالے سے ہونے والی مساعی کو ناکام بنائیں بلکہ ہیگ میں قائم عالمی فوج داری عدالت میں اسرائیل کے خلاف مقدمات کے قیام کو ناکام بنانے کے لیے بھرپور سفارت کاری کے جوہر دکھائیں۔
خیال رہے کہ فلسطینی اتھارٹی کو عالمی فوج داری عدالت کی جانب سے رکنیت کا درجہ حاصل ہونے کے بعد اسرائیل کے خلاف فلسطینیوں پر وحشیانہ مظالم کی تحقیقات کے لیے مقدمات کے قیام کا امکان ہے۔ فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے دی گئی درخواستوں کے بعد عالمی عدالت نے صہیونی ریاست کے خلاف مقدمات کے قیام کے لیے شواہد اکھٹے کرنا شروع کردیے ہیں۔ دوسری جانب اسرائیلی حکومت نے بھی عالمی عدالت میں مقدمات کا سامنا کرنے کے لیے عالمی قوانین کے ماہرین کی خدمات حاصل کرنے کی مہم شروع کردی ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
