مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق بیت المقدس میں مسلسل دوسرے روز بھی بغیر کسی پیشگی نوٹس کے فلسطینیوں کے مکانات مسمار کیے گئے۔ منگل کے روز قابض فوجیوں نے سلوان کے مقام پر فلسطینی شہریوں کا ایک مکان، ایک گودام ور ایک دکان بغیر کسی پیشگی اطلاع کے مسمار کردی تھیں۔ کل بدھ کو سلوان ہی کے مقام پر”وادی الدم” میں بغیر کسی پیشگی اطلاع کے فلسطینی شہریوں کے ملکیتی 400 مربع میٹر پربنے مکانات اور دکانیں مسمار کرڈالیں۔ ان میں سے دوس مربع میٹر بیت المقدس کی جب کہ دو سو مربع میٹر غرب اردن کے لینڈ ریکارڈ میں رجسٹرڈ ہے۔ اس کے علاوہ ایک بڑا ہال جس کی وسعت 500 مربع میٹرتھی کو بھی مسمار کردیا گیا۔
ایک مقامی شہری سمیر الشخشیر نے "قدس پریس” کو بتایا کہ جب وہ علی الصباح اٹھے تو انہوں نے صنعتی علاقےمیں حال ہی میں مکمل ہونے والے ایک رہائشی پلازے کو مسمار کرتے دیکھا۔ اس پلازے میں 15 فلسطینی خاندانوں کو آباد کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا مگر ابھی ہم اسے استعمال نہیں کرپائے تھے کہ قابض فوجیوں نے بغیر کسی پیشگی نوٹس یا اطلاع کہ اسے مسمار کرڈالا۔
مسمار کیے گئے مکان کے مالک غازی یاسین نے بتایا کہ انہوں نے اس جگہ پر پہلی مرتبہ سنہ 1995 ء میں ایک چھاپہ خانہ قائم کیا تھا۔ یہ جگہ ان کی آبائی ملکیت اور وراثت ہے لیکن قابض اور اسرائیلی بلدیہ ان سے یہ جگہ ہرصورت میں چھیننا چاہتے ہیں۔
مسجد اقصیٰ میں آنے والے بچوں کو دھمکیاں
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق موسم گرما کی تعطیلات کے دوران مسجد اقصیٰ کی انتظامیہ کی طرف سے قبلہ اول میں بچوں کی دینی تعلیم کے لیے گرمائی کیمپ لگائے جاتے ہیں۔ امسال بھی ان کا اہتمام کیا گیا تھا، لیکن اسرائیلی ذرائع ابلاغ نے گرمائی کیمپوں کو فلسطینی بچوں کوانتہا پسندی کی تعلیم دلوانے کی سازش قراردینے کے بعد اسرائیلی فوج اور پولیس کو ان کے پیچھے لگا دیا ہے۔
گذشتہ روز اسرائیلی فوجیوں نے مسجد اقصیٰ میں آنے والے بچوں کو مراکشی دروازے کے باہر روک لیا۔ انہیں کہا گیا کہ وہ قبلہ اول میں داخل نہیں ہوسکتے اور نہ ہی مسجد کےاندر ہونے والی کسی سرگرمی میں انہیں حصہ لینے کی اجازت دی جاسکتی ہے۔
قبل ازیں اسرائیل کے عبرانی ٹی وی 10 نے اپنی رپورٹ میں روایتی منفی پروپیگنڈے سے کام لیتے ہوئے کہا تھا کہ مسجد اقصیٰ میں جاری گرمائی کیمپوں کی آڑ میں فلسطینی بچوں کے ذہنوں میں اسرائیل کے خلاف نفرت پیدا کرنے اور انتہا پسندانہ تعلیمات دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔
مسجد اقصیٰ میں منعقد ہونے والے گرمائی تربیتی کیمپ کے ایک نگران الشیخ خالد المغربی نے بتایا کہ بچوں کو انتہا پسندی یا اسرائیل کے خلاف نفرت کی تعلیم ہم تو نہیں دیتے تاہم صہیونی انتظامیہ بالخصوص فوج اور پولیس کا ظالمانہ طرز عمل ہی اس کے لیے کافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کو گرمائی کیمپوں میں شرکت پر سنگین نتائج کی دھمکیاں دے کرانہیں قبلہ اول سے دور رکھنے کی سازش کی جاتی ہے۔ یہ اصل نفرت اور انتہا پسندی ہے۔ ہم بچوں کو مذہبی تعلیم دیتے ہیں۔ ان کے عقائد اورعبادات کی اصلاح کی جاتی ہے اور انہیں شرعی فرائض وواجبات سے اگاہ کیا جاتا ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
