مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق ترک علماء کی جانب سے یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں کیا ہے جب قبلہ اول کی حفاظت کرنے والے القدس کےشہریوں کو اسرائیلی حکام کی جانب سے سخت ترین پابندیوں اور سختیوں کا سامنا ہے۔ اسرائیلی فوج اور یہودی آباد کاروں کی جانب سے حالیہ دنوں میں قبلہ اول پرحملے شروع کیے ہیں جس کے رد عمل میں جمعہ کے روز فلسطین میں "یوم الغضب” منانے اور نفیر عام کا اعلان کیا گیا ہے۔ اسی حوالے سے ترک علماء نے اپنے ہاں قبلہ اول کے دفاع کے سلسلے میں احتجاجی ریلیوں کے انعقاد کا اعلان کرنے کے ساتھ کہا ہے کہ وہ قبلہ اول کے ساتھ ہروقت رابطہ میں رہنے والے ایک ہزار فلسطینیوں کی کفالت کے لیے تیار ہیں۔
ترکی میں موجود فلسطینی علماء کونسل کے بیرون ملک چیئرمین الشیخ نواف التکروری نے ایک بیان میں بتایا کہ ترکی کے علماء نے مسجد اقصیٰ کے دفاع کے لیے اپنا وقت لگانے والوں کے لیے مالی معاونت کا فیصلہ کیا ہے۔ علماء کا کہنا ہے کہ وہ قبلہ اول کے دفاع کے لیے سرگرم فلسطینیوں کو معاشی پریشانیوں سے آزاد کرنا چاہتے ہیں تاکہ وہ یکسوئی کے ساتھ قبلہ اول کے دفاع کے لیے کام کرسکیں۔
خیال رہے مسجد اقصیٰ کی حفاظت پرمامور مردوں اور فلسطینی خواتین کی الگ الگ کمیٹیاں قائم ہیں۔ ان کمیٹیوں کو "مرابطین” اور "مرابطات” کہا جاتا ہے۔ کمیٹیوں کےکارکن اپنا زیادہ سےزیادہ وقت مسجد اقصیٰ میں گذارتے ہیں اور یہودی شرپسندوں کے خلاف احتجاجی ریلیوں میں شرکت کرتے ہیں۔ یہ کارکن اکثر اسرائیلی فوج اور پولیس کے وحشیانہ تشدد کا بھی سامنا کرتے ہیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
