مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق برطانیہ کے معاون وزیرخارجہ برائے مشرق وسطیٰ و شمالی افریقا "ٹوبیس الووڈ” نے لندن میں جاری ایک بیان میں کہا کہ ان کے ملک کو فلسطین میں اسرائیل کی "غیرقانونی” یہودی آباد کاری پر گہری تشویش لاحق ہے۔ لندن کی جانب سے کئی بار اسرائیل سے یک طرفہ اور متنازعہ یہودی آباد کاری پرپابندی کا مطالبہ کیا ہے۔ ہم آج ایک بار تل ابیب سے اپنا یہ مطالبہ دہراتے ہیں کیونکہ توسیع پسندانہ سرگرمیاں مشرق وسطیٰ میں امن بات چیت کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہیں۔
برطانوی نائب وزیر کا کہنا ہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے اور بیت المقدس میں اسرائیل کی جانب سے نئے تعمیراتی منصوبوں کو برطانیہ میں سخت تشویش کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔ ہم نے تل ابیب سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ توسیع پسندانہ پروگرام سے دستبردار ہوجائے اور غرب اردن میں ایک ہزار 65 مکانات کی تعمیر کا فیصلہ واپس لے۔
خیال رہے کہ حال ہی میں اسرائیلی حکومت نے غرب اردن اور بیت المقدس میں یک طرفہ کارروائی کے طورپر ایک ہزار سے زائد مکانات کی تعمیرکا اعلان کیا تھا جس پرامریکا سمیت اسرائیل کے کئی اتحادی ممالک نے بھی سخت ناراضی کا اظہار کیا تھا۔
قبل ازیں برطانوی وزیرخارجہ فیلیپ ہیمونڈ نے پارلیمنٹ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کو غلط اور غیرقانونی قانونی اقدامات کررہا ہے ہم ان کی کھل کر مخالفت کا اظہار کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کی اسرائیل کی یہودی بستیوں کی تعمیر وتوسیع کی مخالفت کے حوالے سے موقف بالکل واضح ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
