مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق اسرائیل کی خاتون وزیرقانون ائیلیٹ شاکیڈ نے سوموار کے روز کابینہ کے اجلاس میں "انسداد دہشت گردی بل” کے نام سے ایک نیا مسودہ قانون پیش کیا جس پربحث کی گئی۔
عبرانی اخبار”یدیعوت احرونوت” کی رپورٹ کے مطابق نئے مسودہ قانون کے تحت فلسطینی مزاحمت کاروں کے لیے سنگین نوعیت کی سزائیں تجویز دی گئی ہیں۔ اس قانون کے تحت اسرائیلی فوج، پولیس اور سیکیورٹی اداروں کو زیادہ سے زیادہ اختیارات دینے کی سفارش کی گئی ہے۔مسودہ قانون میں کہا گیا ہے کہ کسی بھی فلسطینی پر اسرائیل کےخلاف مزاحمتی کارروائی ثابت ہونے پراسے 25 سال قید کی سزا دی جائے۔ کسی مزاحمتی تنظیم کے اہم عہدے پر فائز فلسطینی کو 15 سال اور اسرائیل مخالف گروپوں کی رکنیت حاصل کرنے والوں کو 5 سال قید کی سزا تجویز کی گئی ہے۔
اس نئے مسودہ قانون میں ایک نئی تجویز یہ بھی دی گئی ہے کہ مزاحمتی کارروائیوں کے الزام میں سزا یافتہ کسی بھی فلسطینی کی قبل از وقت رہائی کو ختم کردیا جائے۔ اگر کسی فلسطینی کو عمرقید کی سزا کا سامنا ہو تو صدر مملکت اس کی سزا میں تخفیف صرف اسی صورت میں کرسکیں گے جب وہ کم سے کم پندرہ سال قید کاٹ چکا ہو۔ بہ صورت دیگر صدر کسی فلسطینی کی سزا میں تخفیف کا مجاز نہیں ہوگا۔
نیز کسی بھی ایسےفلسطینی کو جسے فوجی عدالت کی جانب سے سزا دی گئی ہو کی سزا میں تخفیف نہیں ہوسکے گی۔ مشروط تخفیف صرف اس ملزم کی سزا میں ہوگی جسے سول عدالت کی طرف سے سزا دی گئی ہوگی۔
نئے ظالمانہ قانون میں "مزاحمت” کی وضاحت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ کوئی بھی فلسطینی جو اپنی زبان یا لٹریچر کے ذریعے یا اپنے عمل سے اسرائیل کے خلاف سرگرم پایا جائے اسے بھی سزا دی جائے گی۔ اس کے علاوہ مزاحمتی تنظیموں کے ہاں ملازمت کرنے والے افراد کو بھی اسی قانون کے تحت قید اور جرمانے کی سزائیں دی جائیں گی۔ اگر کوکمپیوٹرآپریٹر یا الیکٹریشن کے طورپر کام کررہا ہے اسے بھی تنظیم سے وابستگی کے شق کے تحت سزا ہوگی۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
