مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق جمعہ کے روز یہودی آباد کاروں نے بڑی تعداد نے مسجد اقصیٰ میں گھس کر تلمودی تعلیمات کے مطابق مذہبی رسومات ادا کیں۔ خلاف معمول یہودیوں نے مراکشی دروازے سےباہرنکلنے کے بجائے مسجد اقصیٰ کے باب السلسلہ سے باہرنکلنا شروع کیا جہاں سے فلسطینی مسجد کے اندر داخل ہورہے تھے۔ یہودی شرپسندوں نے نہ صرف باہر نکلنے کے لیے ایک غلط راستے کا انتخاب کیا بلکہ اسلام، پیغمبر اسلام اور مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیز نعرے بازی کی جس پر فلسطینی مشتعل ہوگئے۔ انہوں نے "بزدل یہودی مردہ باد” اسلام زندہ باد” پیغمبر اسلام زندہ باد” کے نعرے لگائے۔
عینی شاہدین کے مطابق یہودی آباد کاروں کی اس اشتعال انگیز حرکت کے وقت اسرائیلی پولیس اور فوج کی بڑی تعداد ان کی سیکیورٹی پرمامورتھے۔ قابض فوجیوں نے فلسطینیوں کو وہاں سے دور ہٹانے کے لیے ان پرلاٹھی چارج کیا جب کہ یہودی انتہا پسندوں کو ہرممکن تحفظ فراہم کیا گیا۔
نماز جمعہ کے بعد ہزاروں فلسطینی شہریوں نے قبلہ اول کے باہرجمع ہوکریہودیوں کی اشتعال انگیزی بالخصوص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخانہ نعروں کے خلاف شدید احتجاج کیا۔ قابض فوجیوں نےپرامن مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ان پرایک بارپھر طاقت کا اندھا دھند استعمال کیا۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
