رطانیہ میں قائم ایک فلسطینی تنظیم”حق واپسی”[حق العودہ] کو اقوام متحدہ میں مشاورتی رکن کا درجہ حاصل ہوگیا ہے۔ تنظیم کی یہ تاریخی کامیابی ہے جس پرصہیونی ریاست اور اس کے حلیف ممالک اس وقت چراغ پا ہیں۔ صہیونی لابی کی تمام ترفتنہ سامانیوں کے علی الرغم تنظیم نے عالمی ادارے کی رکنیت حاصل کرکے ایک اہم سنگ میل طے کرلیا ہے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق "مرکز برائے حق واپسی” لاکھوں فلسطینی پناہ گزینوں کا ترجمان ادارہ ہے جس کا ہیڈ کواٹر برطانیہ کے دارالحکومت لندن میں ہے جب کہ اس کی کئی شاخیں یورپ اور دوسرے ملکوں میں بھی کام کررہی ہیں۔ یہ تنظیم سنہ 1948 ء اور اس کے بعد فوجی طاقت کے بل بوتےپرفلسطین سے نکالے گئے لاکھوں شہریوں کی وطن واپسی کے حق کا پرچارک کررہی ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ اقوام متحدہ نے کسی فلسطینی تنظیم کو اپنے ہاں "مشاورتی حیثیت” سے رکنیت کا درجہ دیا ہے۔
نیویارک میں اقوام متحدہ کی سماجی واقتصادی کونسل کے اجلاس میں”مرکز حق واپسی” کو رکنیت دینے کے حوالے سے بحث کا آغاز کیا گیا۔ کونسل کے ارکان کی اکثریت نے "مرکز” کو ادارے میں C nsultative Status [مشاورتی حیثیت] دیتے ہوئے اسے ان تنظیموں کے گروپ میں شامل کرلیا ہے جو اس وقت اقوام متحدہ کی سرپرستی میں انسانی حقوق کے لیے کام کررہی ہیں۔
ایک ماہ قبل اقوام متحدہ کی اقتصادی کونسل نے "مرکز حق واپسی” کو رکنیت دینے کی درخواست منظور کی تھی تاہم اس پر حتمی فیصلہ موخر کردیا گیا تھا۔ اسرائیل کی جانب سے اقتصادی کونسل کو ایک درخواست دی گئی تھی جس میں "مرکزحق واپسی” کو متنازعہ تنظیم قرار دے کراس کی رکنیت قبول نہ کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ تاہم کونسل کے 54 ممبر ممالک نے اسرائیلی درخواست مسترد کرتے ہوئے "مرکزبرائے حق واپسی” کو رکنیت دے دی ہے۔
گذشتہ روز اسرائیلی درخواست پررائے شماری ہوئی جس میں 16 ممالک نے اس درخواست کی مخالفت کی جب کہ 13 ملکوں کی جانب سے حمایت کی گئی تھی۔ اسرائیلی درخواست پر مخالفت کرنے والوں میں روس، چین، برازیل، جنوبی افریقا، ایران، چار عرب ممالک، لاطینی امریکا کے ممالک شامل تھے جب کہ اسرائیل کی حمایت کرنے والوں میں خود اسرائیلی مندوب، امریکا، جرمنی، برطانیہ شامل تھے۔ 18 ملکوں نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
