مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق اسماعیل ھنیہ نے ان خیالات کا اظہار غزہ کی پٹی میں الشجاعیہ کالونی کی جامع مسجد میں نماز عید سے قبل اجتماع سے خطاب میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ کچھ لوگوں کو یقین نہیں آ رہا کہ غزہ کی پٹی کا محاصرہ کب ختم ہوگا۔ صہیونی دشمن کو غزہ کا محاصرہ کرکے مسلسل ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا ہے۔ وہ دور گذرگیا جب اسرائیل غزہ کی پٹی کا محاصرہ کررہا تھا۔ ناکہ بندی جلد ختم ہونے والی ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ غزہ کی پٹی کی بندرگاہ، تعمیر نو اور بحالی کے کاموں کو جنگی بنیادوں پرشروع کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ اب ہم اپنی منزل کے قریب تر پہنچ چکے ہیں۔غزہ کی ناکہ بندی ختم ہونے کو ہے اور زندگی کے تمام شعبوں میں اب بہتری آنے والی ہے۔
خیال رہے کہ اسماعیل ھنیہ نے غزہ کی پٹی کے محاصرے کے خاتمے کا اشارہ ایک ایسے وقت میں دیا ہے جب دوسری جانب اسرائیلی اخبارات نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ حماس اور اسرائیل کے درمیان غزہ کے ساحل میں بندرگاہ کے قیام اور آبی گذرگاہ کے حوالے سے بالواسطہ مذاکرات جاری ہیں۔
اسماعیل ھنیہ کا کہنا تھا کہ اسیرائیلی جیلوں میں قید فلسطینی جلد خوش خبری سنیں گے۔ میں تمام اسیران کو عید کی مبارک باد کے ساتھ انہیں خوش خبری سناتا ہوں کہ ان کی آزادی اب قریب تر ہے۔ جلد ہی اسیران کی رہائی کے لیے ایک نئی ڈیل طےپائے گی۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل سے قیدیوں کے تبادلے کے مذاکرات اس وقت تک شروع نہیں ہوسکتے جب تک صہیونی ریاست ان 54 فلسطینیوں کو رہا نہیں کرے گا جنہیں معاہدے کے تحت رہا کرنے کے بعد دوبارہ گرفتار کیا گیا ہے۔
اسماعیل ھنیہ نے کہا کہ ان کی جماعت تمام عرب ممالک، مسلم امہ اور عالمی برادری کے ساتھ دوستانہ تعلقات کے قیام کی خواہاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری دشمنی ان قابض اور غاصب صہیونیوں کے ساتھ ہے جنہوں نے ہمارے وطن پرجبرا قبضہ کررکھا ہے۔ فلسطینیوں کی بندوق صرف اپنی آزادی کے لیے اٹھے گی۔ کوئی ایک فلسطینی بھی کسی دوسرے مسلمان یا عرب ملک میں عدم استحکام کی سازش کا سوچ بھی نہیں سکتا ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
