مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق تنظیم آزادی فلسطین کے شعبہ اموراسیران کی جانب سے جاری ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان چھ ہزار فلسطینیوں میں سے 51 قیدی 20 سال سے زیادہ عرصہ صہیونی زندانوں میں گذار چکے ہیں۔ 16 قیدی 25 سال قید کاٹنے کے باوجود پابند سلاسل ہیں۔ کریم اور ماہر یونس سب سے پرانے فلسطینی اسیران ہیں جو تیس سال سے صہیونی جیلوں میں بند ہیں۔ اسرائیلی جیلوں میں قید 480 فلسطینی عمرقید جیسی سنگین سزائوں کے تحت بند ہیں۔
اسیران میں 24 خواتین، 8 ارکان اسمبلی، 484 انتظامی محروسین اور 250 بچے بھی قید ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صہیونی فوج اور پولیس نے جون 2014 ء میں فلسطینیوں کے خلاف وحشیانہ کریک ڈائون کا ایک نیا سلسلہ شروع کیا جس کے تحت ہزاورں فلسطینیوں کو جیلوں میں ڈالا گیا۔ پچھلے سال گرفتاریوں کی شرح میں 56 فی صد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ گرفتار کیے گئے 78 فی صد افراد نوجوانوں اور بچوں پر مشتمل تھے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صہیونی فوج کی جانب سے گرفتار کرکے جیلوں میں ڈالے گئے فلسطینیوں پربدترین مٖظالم ڈھائے جاتے ہیں۔ قیدیوں کے ساتھ تشدد کے نہایت شرمناک ہتھکنڈے استعمال کرتے ہوئے انہیں بنیادی حقوق سے محروم رکھا جاتا ہے۔ قیدیوں سے ان کے عزیزواقارب کے ملاقات پرپابندی ہے اور سیکڑوں فلسطینیوں کو قید تنہائی میں ڈالا گیا ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
