مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق دعشی جنگجوئوں نے حماس رہ نما کو نماز تراویح کے بعد یرموک پناہ گزین کیمپ کی جامع مسجد عبدالقدار الحسینی س باہر نکلتے ہوئے نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں وہ جام شہادت نوش کرگئے۔
مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق دو مسلح نقاب پوش داعشی جنگجوئوں نے حماس رہ نما مصطفیٰ الشرعان پر مسجد سے باہر نکلتے ہی اندھا دھند گولیاں برسائیں جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہوئے۔ کئی گولیاں ان کے سرمیں لگیں جو جان لیوا ثابت ہوئیں۔ انہیں شدید زخمی حالت میں ایک مقامی اسپتال لے جایا گیا تاہم کچھ ہی دیر بعد وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔
یاد رہے کہ حماس رہ نما ماضی میں فلسطین الخیریہ نامی ایک فلاحی ادارے کےڈائریکٹر بھی رہے ہیں۔انہوں نے شام میں موجود فلسطینی پناہ گزینوں کی موجودہ خانہ جنگی کے دوران بھرپور مدد اور معاونت کی۔ رواں سال اپریل میں داعش نے یرموک پناہ گزین کیمپ پر قبضہ کیا تو حماس اور دوسری تنظیموں کے حامیوں کو وہاں سے نکل جانے کو کہا گیا تاہم انہوں نے کیمپ چھوڑنے سے انکار کردیا تھا۔
اپریل کے بعد یرموک کیمپ میں داعش کے ہاتھوں یہ دوسرے حماس رہ نما کا قتل ہے۔ اس سے قبل داعش جنگجو ایک دوسرے امدادی کارکن اور حماس رہ نما ابو صہیب حورانی کو بھی قاتلانہ حملے میں شہید کرچکے ہیں۔ الشرعان اور الحورانی دونوں دوست بھی تھے اور فلسطینی پناہ گزینوں کی مسلسل بہبود میں سرگرم رہے۔
مصطفیٰ الشرعان کی شہادت پرفلسطینی کارکنوں اور عوام نے گہرے دکھ کا اظہار کیاہے۔ مقامی سماجی کارکنوں اور امدادی اداروں کے رضاکاروں، صحافیوں اور دانشوروں نے مصطفیٰ الشرعان کی فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے خدمات کو خراج عقیدت پیش کیا ہے۔ تجزیہ نگار ابراہیم العلی کا کہنا ہے کہ مصطفیٰ شرعان ایک خاموش طبع انسان دوست رہ نما تھے۔ وہ خاموشی سے فلسطینی پناہ گزینوں کی مدد کرتے رہے اور خاموشی سے آج ہم سے چھین لیے گئے۔
ایک دوسرے تجزیہ نگار ابو عبدالرحمان کا کہنا ہے کہ مصطفی الشرعان کی شہادت سے شام میں موجود فلسطینی پناہ گزین ایک بڑے معاون اور مدد گار سے محروم ہوگئے ہیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
