مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق فلسطینی اتھارٹی کے عہدیدار نے بتایا کہ رواں سال اسرائیلی جیلوں میں قید امتحانات میں حصہ لینے والے فلسطینیوں کی تعداد میں گذشتہ برس کی نسبت خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔ سنہ 2014 ء میں 600 فلسطینی قیدیوں نے میٹرک کے امتحانات دیے تھے۔
عیسیٰ قراقع کا کہنا تھا کہ اسرائیلی جیلوں میں قید فلسطینی شہریوں کی اتنی بڑی تعداد کا میٹرک کے امتحانات میں حصہ لینا قابل تحسین کوشش ہے۔ اگرچہ سنہ 2009 ء میں صہیونی حکومت نے قیدیوں کے حوالے سے پالیسی تبدیل کرتے ہوئے انہیں امتحانات میں حصہ لینے سے روک دیا تھا۔ تاہم پچھلے سال بڑی تعداد میں اسیر طلباء اور طالبات نے نہ صرف امتحانات میں حصہ لیا بلکہ شاندار نمبروں کے ساتھ کامیابی بھی حاصل کی تھی۔
خیال رہے کہ اسرائیلی جیلوں میں نہ صرف میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کے طلباء اسیری کے ساتھ تعلیم کے زیور سے بھی خود کو آراستہ کررہے ہیں بلکہ دسیوں طلباو طالبات قید کے دوران گریجوایشن، ایم، ایم فل اور پی ایچ ڈی بھی کرتے رہے ہیں۔
اگرچہ اسرائیلی حکومت اور محکمہ تعلیم کی جانب سے فلسطینی قیدیوں کی تعلیم پر طرح طرح کی پابندیاں بھی عاید کی جاتی ہیں۔ تاہم اس کے باوجود تعلیمی اداروں سے محروم فلسطینی طلبا جیلوں کی سلاخوں کے پیچھے بھی حصول علم کا شوق پورا کرنے کی پوری کوشش کررہے ہیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
