عبرانی اخبار”میکور ریچون” نےاپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ جرمنی ایک بار پھر حماس اور اسرائیل کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کے لیے ثالثی کی کوششیں کرنے کو تیار ہے۔ رپورٹ کے مطابق جرمن انٹیلی جنس حماس اور اسرائیل کے درمیان قیدیوں کےتبادلے کا معاہدہ کرانے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔
دوسری جانب اسرائیلی اخبارات لکھتے ہیں کہ وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو پرغزہ کی پٹی میں جنگی قیدی بنائے گئے یہودیوں کے معاملے پر اندرون ملک اور بیرونی سطح سے بھی سخت دبائو کا سامنا کررہے ہیں۔
اخبار "یدیعوت احرونوت” کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم کو اندرونی اور بیرونی دبائو کاسامنا ہے۔ ان سے مسلسل یہ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ غزہ کی پٹی میں جنگی قیدی بنائے گئے دو فوجیوں اور دو مردہ فوجیوں کی میتیں واپس لانے کے لیے فوری اقدامات کریں۔
اخبار نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ وزیراعظم نیتن یاھو کی جانب سے غزہ میں قید ایتھوپیائی یہودی ابراہام مینجسٹو کے اہل خانہ کو یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ حکومت مینجسٹو کی رہائی کے لیے موثر اقدامات کررہی ہے۔ وزیراعظم کے مقربین نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا ہے کہ حکومت کی جانب سے غزہ میں حماس کے ہاں قید یہودیوں کا معاملہ حل کرنے میں تاخیر سے عوامی دبائو میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ایتھوپیائی نسل کےیہودی پہلے ہی نیتن یاھو کی پالیسیوں سے سخت نالاں ہیں اور وہ پچھلے کئی ماہ سے اپنے ساتھ ہونے والے نسل پرستانہ سلوک کے خلاف احتجاجی مظاہرے کررہے ہیں۔ سول سوسائٹی بھی ان کے ساتھ ہے۔ اگر وہ ابراہام منجسٹو کی رہائی کے لیے کوئی تحریک چلاتے ہیں تو نیتن یاھو کو سخت مشکل کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ کیونکہ احتجاج پرتشد شکل اختیار کرگیا تو اس کے نتائج کو سنبھالنا مشکل ہوگا۔ وزیراعظم ہائوس کے ذرائع کا کہنا ہے کہ نیتن یاھو غزہ میں یرغمال یہودیوں کی رہائی کے معاملے میں لاپرواہ نہیں ہیں۔ انہیں اندازہ ہے کہ اگر یہودیوں کی رہائی کے ایشو پر احتجاجی تحریک شروع ہوئی تو اس کےنتیجے میں ان حکومت بھی جاسکتی ہے۔
خیال رہے کہ پچھلے ہفتے اسرائیلی ذرائع ابلاغ نے فوج اور حکومت کے بیانات کے حوالے سے بتایا تھا کہ غزہ کی پٹی میں دو زندہ یہودی یرغمال ہیں جب کہ دو مردہ صہیونی فوجیوں کی باقیات بھی حماس کے قبضے میں ہیں۔ یہ فوجی پچھلے سال جولائی اور اگست کے دوران غزہ کی پٹی پر مسلط کی گئی جنگ میں القسام بریگیڈ کے حملے میں مارے گئے تھے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
