گزشتہ سالوں کی طرح اس سال بھی رہبر کبیر انقلاب اسلامی حضرت امام خمینی کے حکم پر پوری دنیا کی طرح پاراچنار
میں رمضان المبارک کے آخری جمعہ یعنی جمعۃ الوداع کو یوم القدس کے طور پر بڑے جوش خروش کے ساتھ منایا گیا۔
جس میں پاراچنار سمیت ملحقہ علاقوں سے ہزاروں کی تعداد میں عوام و خواص نے بھرپور شرکت کی۔
جلوس نماز جمعہ کے فورا بعد سابق سنیٹر علامہ سید عابد حسین الحسینی کی قیادت میں مدرسہ آیۃ اللہ خامنہ ای سے برآمد ہوا۔ شرکاء جلوس راستے میں، لبیک یا علیؑ، لبیک یا حسینؑ، لبیک یا زینبؑ، مردہ باد امریکہ، مردہ اسرائیل، مردہ باد دشمنان اسلام و پاکستان، مردہ باد دہشتگرد وغیرہ جیسے نعرے لگاتے ہوئے اپنے مقررہ روایتی راستوں اور بازاروں سے ہوتے ہوئے تقریبا تین بجے سہ پہر شہید پارک پہنچے جہاں جلوس نے جلسے کی شکل اختیار کرلیا۔ جلوس میں عوام کی بڑی تعداد کے ساتھ کرم بھر کے علماء، طلباء، زعماء، مشران کے علاوہ تمام قومی اور علاقائی تنظیموں نے بھی بھر پور شرکت کی۔
شہید پارک میں جلسے سے تحریک حسینی کے سرپرست اعلیٰ علامہ سید عابد حسین الحسینی، تحریک حسینی کے صدر آغا منیر حسین جعفری اور دیگر نے خطاب کیا۔
علامہ عابد حسین الحسینی نے اپنے خطاب میں اسرائیل کی جانب سے غزہ اور فلسطین کے دیگر مسلمانوں پر ظلم اور زیادتی پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ میرے خیال میں ان تمام تر مظالم کا واحد ذمہ دار فقط اسرائیل نہیں، بلکہ یہ سب کچھ بے غیرت عرب ممالک کی جانب سے اسرائیلی مفادات کا علاقے میں تحفظ کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عرب دنیا میں جہاں کہیں کشت خون ہورہا ہے وہ اسرائیل کے اشارے پر خود عرب ممالک خصوصا سعودی عرب ہی کررہا ہے۔ تاکہ مسئلہ فلسطین اور اسرائیل سے مسلمانوں کی توجہ ہٹاکر اپنے باہمی تنازعات کی جانب مبذول کرائے۔ انہوں نے کہا اسرائیل اور امریکہ کے اشارے پر عرب ممالک نے ایڑی چوٹی کا زور لگا کر مصر کی منتخب حکومت کو برطرف کردیا، کیونکہ اسکی زیادہ نہیں صرف بیس فیصد ھمدردیاں فلسطینیوں کے ساتھ تھی۔ اسکے باوجود اس کو حکومت کرنے نہیں دیا گیا۔ اور اسکی معزولی میں سب بڑا کردار سعودی عرب نے ادا کیا۔
جلوس میں علامہ عابد حسینی کی تقریر کے دوران تیز بارش شروع ہوئی تاہم لوگوں کا حوصلہ کم ہونے کی بجائے بڑھتا ہی گیا۔ اور لبیک یا حسین کے نعروں سے مجمع گونجتا رہا۔ علامہ عابد حسینی کی تقریر کے اختتام پر تحریک حسینی کے رہنما مولانا سید کوثر شیرازی نے قراردادیں پیش کیں۔ اور اسکے بعد امریکہ اور اسرائیل کے جھنڈوں کو نعرہ تکبیر، نعرہ رسالت اور نعرہ حیدری کی گونج میں نذر آتش کیا گیا۔
اور یوں جلوس مرکزی امام بارگاہ کی طرف واپس ہونے لگا۔ مرکزی امام بارگاہ پہنچ کر ذاکر اہلبیت سید عنایت حسین اور اسکے ساتھیوں نے مرثیہ جبکہ علامہ سید قانون حسین شیرازی نے مصائب امام حسین علیہ السلام پڑھے۔ اور یوں جلوس
پرامن طور پر منتشر ہوا۔


