مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق فلسطینی وزارت خزانہ کی جانب سے جاری ایک بیان میں بتایا ہے کہ وزیراعظم رامی الحمد للہ کی قیادت میں قومی حکومت کو رواں سال کے پہلے پانچ ماہ میں چارسو چار ملین ڈالر کی امداد حاصل ہوئی تھی۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ قومی حکومت کو مختلف شعبوں میں بیرون ملک سے حاصل ہونے والی سرمایہ کاری میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
عالمی برادری کی جانب سے امداد حاصل ہونے کے باوجود فلسطینی قومی حکومت سال 2015 ، اور 2016 ء کا بجٹ منظور نہیں کرسکی۔ اس کی بنیادی وجہ پچھلے سال دسمبر کیے بعد سے فلسطینی محصولات کی ادائی روکنا بھی شامل ہے۔
اسرائیل سے حاصل ہونے والے محصولات کا بیشتر حصہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی پر صرف کیا جاتا رہا ہے لیکن دسمبر سے مارچ تک محصولات کی عدم ادائیگی کی وجہ سے فلسطینی حکومت کو بدترین مالیاتی خسارے اور بحران کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
اسرائیل کی جانب سے محصولات کی بندش کے باوجود پچھلے پانچ ماہ میں 382.5 ملین امریکی ڈالر کی رقم ترقیاتی شعبوں میں سرمایہ کاری کے لیے حاصل ہوئی اور پچھلے ایک سال کے دوران مجموعی طورپر فلسطینی مخلوط حکومت کو 21.4 ملین ڈالر کی امداد ملی۔
وزارت خزانہ کی رپورٹ کے مطابق رواں سال مئی میں بیرونی امداد پچھلے سال کی نسبت 3 فی صد زیادہ حاصل ہوئی۔ پچھلے سال پہلے پانچ ماہ میں مجموعی طور پر 392 ملین ڈالر کی امداد حاصل ہوئی تھی جب کہ اس سال 404 ملین ڈالر سے تجاوز کرگئی ہے۔
قبل ازیں اپریل میں فلسطینی سیکرٹرہ خزانہ اور ڈائریکٹر جنرل بجٹ فرید غنام کا کہنا تھا کہ رواں سال مجموعی طورپر بیرون ملک سے امداد کا حجم 800 ملین تک ہی محدود رہے گا، جس میں اضافے کا امکان نہیں ہے۔
