مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق امدادی کارکن ڈاکٹر عصام یوسف کا کہنا ہے کہ فریڈم فلوٹیلا تین غزہ کی پٹی کے لیے یونان کی ایتھن بندرگاہ سے روانہ ہونے کے لیے بالکل تیار ہے۔
ایھتن میں قافلے کی روانگی سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتےہوئے ڈاکٹر عصام یوسف نے کہا کہ غزہ کا محاصرہ توڑنا ان کا عزم ہے اور وہ ہرصورت میں محاصرہ توڑنے کی کوشش کریں گے۔ انہوں نے بتایا کہ قافلے میں کئی اہم شخصیات بھی غزہ آرہی ہیں۔ ان میں تیونس کے سابق صدر ڈاکٹر منصف المرزوقی، مراکش، الجزائر، اردن اور یورپی ممالک کے ارکان پارلیمنٹ، انسانی حقوق کے مندوبین، صحافی اور سماجی کارکن شامل ہیں۔
انہوں نے اسرائیل کو خبردار کیا کہ وہ جارحیت کا مظاہرہ کرنے کی حماقت نہ کرے کیونکہ امدادی قافلے میں کوئی خطرناک سامان نہیں ہے۔ عصام یوسف نے عالمی برادری سے بھی اپیل کی کہ وہ امدادی قافلے کو بہ حفاظت غزہ تک پہنچانے میں مدد فراہم کرنے کے لیے تعاون کریں اور اسرائیل کو امدادی قافلے پرحملے سے روکنے کے لیے دبائو ڈالیں۔
خیال رہے کہ پہلا فریڈم فلوٹیلا 2010 ء میں غزہ کی پٹی کی جانب روانہ ہوا تھا تاہم صہیونی فوج نے کھلے سمندر میں قافلے میں شامل ترک بحری جہاز”مرمرہ” پرحملہ کرکے دس ترک رضاکاروں کو شہید اور 50 کو زخمی کردیا تھا۔ دوسرے فریڈم فلوٹیلا کو روانگی کے لیے تیار کیا گیا مگر اسرائیلی دبائو کے تحت یونانی حکومت نے قافلے کی روانگی روک دی تھی۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
