مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق الشیخ صبری نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ رمضان المبارک کا با برکت مہینا قبلہ اول سے وابستگی اور تعلق کو مضبوط بنانے کا مہینا ہے۔ ہر فلسطینی کی یہ خواہش ہے کہ وہ اپنا کچھ وقت قیام اللیل کی شکل میں قبلہ اول میں گذارے، نماز ترویح مسجد اقصیٰ میں ادا کرے اور علماء کے ایمان تازہ کرنے والے دروس سے فیضاب ہونے کے ساتھ ساتھ فقہی مسائل سے آگاہی کے لیے اپنا وقت قبلہ اول میں گذارے۔
انہوں نے کہا کہ کون نہیں چاہتا کہ وہ مسجد اقصیٰ میں نماز کی ادائی کو یقینی بنائے جہاں ایک رکعت کا ثواب پانچ سو گنا زیادہ ہے۔ اس لیے میں فلسطینی قوم سے اپیل کروں گا کہ وہ اپنا زیادہ سے زیادہ وقت قبلہ اول میں گذارنے کے لیے کوشش کریں۔
امام قبلہ اول نے فلسطینی عوام سے اپیل کی وہ مسجد اقصیٰ میں اپنی موجودگی کے وقت مقدس مقام کی صفائی اور نظافت وطہارت کو یقینی بنانے میں کوئی کسرنہ چھوڑیں۔ اپنے صدقات، فطرانے اور زکواۃ کے مال سے قبلہ اول کا دفاع کریں۔
علامہ ڈاکٹر عکرمہ صبری نے عالم اسلام سے بھی پرزور اپیل کی کہ وہ قبلہ اول کے دفاع کے لیے اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کریں اور صہیونی ریشہ دوانیوں کا مل کرمقابلہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ اسلام اعتدال پسندی کا مذہب ہے اور مسلم امہ کو ماہ صیام کے دوران پوری دنیا کو اپنی امن اور اعتدال پسندی سے آگاہ کرنا چاہیے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
