مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق اسلامی تحریک مزاحمت "حماس” کی جانب سے جاری ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیل کے خلاف مزاحمتی کارروائیوں میں اضافہ نہ صرف مقبوضہ مغربی کنارے میں دیکھا گیاہے بلکہ مقبوضہ بیت المقدس اور سنہ 1948 ء میں اسرائیل کے زیرتسلط چلے جانے والے علاقوں میں بھی صہیونی ریاست کے مفادات پرحملوں میں اضافہ ہوا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جون کے پہلے دوہفتوں کے دوران مغربی کنارے، بیت المقدس اور فلسطین کے دوسرے علاقوں میں صہیونی فوج پر فلسطینیوں کے حملوں میں اضافہ ہوا۔ پچھلے ایک ہفتے میں تین اہم مزاحمتی کارروائیاں دیکھنے میں آئیں۔ ایک مزاحمتی کارروائی میں بیت المقدس میں اسرائیلی فوجیوں پر فائرنگ کی گئی۔ ایک کارروائی مغربی کنارے کے الخلیل شہر میں گاڑی کی ٹکرکی صورت میں دیکھی گئی جب کہ ایک کارروائی مقبوضہ فلسطین کے سنہ 1948 ء کے شہر رملہ میں ایک یہودی آباد کار پرخنجر کے وار سے حملے کی شکل میں ریکارڈ کی گئی۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پچھلے ایک ہفتے کے دوران مقبوضہ مغربی کنارے اور بیت المقدس کے مختلف شہروں میں صہیونی فوجیوں اور فلسطینیوں کے درمیان 67 پرتشدد جھڑپیں ہوئیں۔
ان پرتشدد جھڑپوں میں سے 64 صرف مغربی کنارے کے شہروں میں دیکھی گئیں۔ جھڑپوں میں جہاں بڑی تعداد میں فلسطینی زخمی ہوئے ہیں فلسطینیوں کی سنگ باری سے کئی صہیونی فوجی بھی زخمی ہوئے۔
رپورٹ کے مطابق فلسطینیوں کے ساتھ جھڑپوں میں کم سے کم 10 یہودی زخمی ہوئے جن میں سے پانچ اسرائیلی فوجی اہلکار شامل ہیں۔ صہیونی فوج کی جارحیت میں پچھلے ہفتےمغربی کنارے کے شمالی شہر جنین میں ایک فلسطینی نوجوان عزالدین بنی غرہ کو شہید کردیا گیا۔ اسی دوران فلسطینیوں کی پرتشدد جھڑپوں میں تین یہودی آباد کار زخمی ہوئے۔
گذشتہ جمعہ کوصہیونی فوجیوں کے خلاف پانچ مزاحمتی کارروائیاں کی گئیں۔، بدھ کو 12 ، منگل کو 7 ، سوموار کو بھی 7 ، اتوار کو 9 اور ہفتے کے روز 12 کارروائیاں کی گئیں۔ اس سے قبل 5 جون بروز جمعہ کو 14 مزاحمتی کارروائیاں کی گئیں۔ جمعرات کو بھی بارہ، بدھ کو 9 ، منگل کو 11 ، سوموار کو 9 اور اتوار کو 7 کارروائیاں ریکارڈ کی گئیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
