مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق بیت المقدس کے ایک مقامی وکیل حسان یونس نے اسرائیلی عدالت میں تمام تردستاویزی ثبوت کے ذریعے یہ ثابت کیا ہے کہ یہودی آباد کاروں کے لیے فلیٹس فلسطینیوں کی ملکیتی اراضی پرتعمیر کیے گئے تھے۔
مرکزاطلاعات فلسطین سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے حسام یونس نے بتایا کہ انہوں نے اسرائیلی عدالت سے فیصلہ لیا نہیں بلکہ جبرا چھینا ہے کیونکہ اسرائیل جج بار بار ٹال مٹول سے کام لے رہے تھے۔ اسرائیلی عدالت کی جانب سے بار بار یہودیوں کو ڈھیل دینے کی کوشش کی گئی مگرہم مسلسل اپیلیں کرتے اور بار بار دستاویزی ثبوت مہیا کرتے رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اسرائیلی حکام کی جانب سے بیت ایل میں ڈیڑھ درجن مکانات ایسے تعمیر کر رکھے تھے جنہیں فلسطینیوں کی اراضی پربنایا گیا تھا۔ صہیونی حکام مزید توسیع کرتے ہوئے فلسطینیوں کی اراضی پرقبضے کی کوشش کررہے تھے۔
تاہم عدالت نے حتمی فیصلہ دیتے ہوئے "بیت ایل” کالونی میں تعمیر کردہ اٹھارہ رہائشی فلیٹس کو فوری مسمار کرنے اور اراضی ان کے مالکان کو سپرد کرنے کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ "بیت ایل” میں یہودی کالونی "عوفادیا یوسف” نامی ایک یہودی ربی کی تنظیم”سوکات عوفادیا” نے تعمیر کرائے تھے اور ان کے لیے فلسطینیوں کی اراضی ہتھیائی گئی تھی۔
خیال رہے کہ اسرائیل کی مختلف عدالتوں میں اس نوعیت کے بے شمار کیسز زیرالتواء ہیں۔ عموما اس نوعیت کے کیسزمیں تمام ترثبوتوں کے باوجود فلسطینیوں کی شنوائی نہیں کی جاتی اور فیصلہ یہودیوں کے حق میں کیا جاتا ہے تاہم پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ صہیونی عدالت نے فلسطینیوں کی درخواست پر یہودیوں کے تعمیر کیے گئے ڈیڑھ درجن مکانات مسمار کرنے کا حکم دیا ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
