اسرائیل کے عبرانی اخبار”ہارٹز” کے مطابق حال ہی میں سوئٹرزلینڈ کے شہرزیورخ میں انسانی حقوق کی تنظیم” Break Silence "[خاموشی توڑیے] نے ایک نمائش کا اہتمام کیا تھا جس میں اسرائیل کے فلسطینیوں کے خلاف جنگی جرائم کو بے نقاب کیا گیا تھا۔ تصویری نمائش میں اسرائیلی فوج کے ہاتھوں نہتے فلسطینیوں کے قتل عام کے دلخراش مناظر دکھائے گئے تھے اور اسے مقامی ذرائع ابلاغ نے بھی غیرمعمولی کوریج دی تھی۔
اسرائیلی اخبار کے مطابق سوئٹرزلینڈ میں متعین اسرائیلی سفیر یغئال کازفی نے سوئس وزارت کارجہ کے مشرق وسطیٰ شعبے کے انچارج سے ٹیلیفون پر رابطہ کیا اور زیورخ میں منعقدہ نمائش پر اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا۔ اسرائیلی سفیر نے مطالبہ کیا کہ زیورخ میں فلسطینیوں پر اسرائیل کے مظالم کو بے نقاب کرنے والی تنظم کے اثاثوں پرپابندی عاید کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کو زیورخ میں منعقدہ ایک متنازعہ نمائش پر افسوس اور تشویش ہے۔ سوئس حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسی متنازعہ نمائش کے اہتمام اور اس کا انتظام کرنے والی تنظیموں پرپابندی عاید کرے۔
خیال رہے کہ انسانی حقوق کی تنظیم”خاموشی توڑیے” نے رواں ماہ میں زیورخ میں اسرائیل کے فلسطینیوں کے خلاف جنگی جرائم کو بے نقاب کرنے کے لیے دوبارہ نمائش کا اعلان کیا ہے۔ نمائش میں غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فوج کے ہاتھوں فلسطینیوں کے قتل عام اور مغربی کنارے اور بیت المقدس میں قابض فوج کی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی تصاویر اور ویڈیوز کے ذریعے نمائش کی جائے گی۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
