مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق اسرائیلی جیل سے اپنے وکیل کے ذریعے ڈاکٹر عزیز دویک نے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ آئینی طورپر اب مجھے جیل میں رکھنے کا اسرائیل کے پاس کوئی جواز نہیں ہے۔
ادھر ڈاکٹر عزیز دویک کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ انہیں اطلاع ملی تھی کہ ڈاکٹر دویک کو رواں ہفتے رہا کردیاجائے گا۔ خیال رہے کہ ڈاکٹر دویک کو 16 جون 2014 ء کو حراست میں لیا گیا تھا۔ اسرائیلی عدالت میں ان پر مقدمہ چلایا گیا اور عدالت نے انہیں گیارہ ماہ قید اور 6000 شیکل جرمانہ کی سزا سنائی تھی۔ ان کی گیارہ ماہ قید کی مدت پوری ہوچکی ہے لیکن اس کے باوجود انہیں رہا نہیں کیا جا رہا ہے۔
اسرائیلی قانون کے تحت ہرسال ہرقیدی کی سزا میں 23 دن کی تخفیف بھی کی جاتی ہے۔ اس لحاظ سے ڈاکٹر دویک کی مدت حراست 25 مئی کو ختم ہوجانی چاہیے تھی مگر ایک ہفتے سے زائد گذرجانے کےباوجود انہیں رہا نہیں کیا گیا ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
