مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق جرمن وزیرخارجہ نے غزہ کی پٹی کے دورے کےدوران ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں نے جوکچھ غزہ میں دیکھا ہے وہ ناقابل بیان ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ غزہ کی حالت بہت خراب ہے۔ پورا علاقہ بارود کا ڈھیر اور بیرل بم پر کھڑا ہے۔ معمولی سی کوتاہی بھی کسی بڑے انسانی المیے کا موجب بن سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کی جانب سے غزہ کی فوری مدد ہی اس بیرل بم کے پھٹنے سے بچا سکتی ہے۔
جرمن وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ میں فلسطینی اور اسرائیلی حکام کے ساتھ مل کر غزہ کی پٹی کی ابتر صورت حال کوبہتر بنانے اور مزید کسی نئی جنگ کو روکنے کے لیے کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہوں۔
انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ اور دیگرعالمی تنظیموں کی ذمہ داری ہے کہ وہ جنگ سے تباہ حال غزہ کی پٹی کی تعمیرنو میں اب موثر اقدمات کریں ورنہ حالات بہت سنگین شکل اختیار کرچکے ہیں۔
مسٹر اشٹائنمر کا کہنا تھا کہ غزہ کی پٹی کی زمینی صورت حال کو بیان کرنا آسان نہیں۔ میں نے جو کچھ دیکھا اور جس طرح کے لوگوں سے ملا ہوں اس کیفیت کو بیان نہیں کرسکتا۔ میں اسرائیل اور مصرسمیت عالمی برادری سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ غزہ کی پٹی کو معاشی بحران سے نکالنے میں بھرپور مدد فراہم کریں۔
خیال رہے کہ جرمن وزیرخارجہ گذشتہ روز غزہ کی پٹی کے دورے پرآئے تھے جہاں انہوں نے جنگ سے تباہ ہونے والی علاقوں کا بھی دورہ کیا۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
