مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق انسانی حقوق کی تنظیم "اسیران اسٹڈی سینٹر” کے ڈائریکٹر رافت حمدونہ نے بتایا کہ بھوک ہڑتال اسیر خضرعدنان کی صحت بری طرح خراب ہوئی ہے۔ انہوں نے اپنی بلا جواز انتظامی حراست کے خلاف مسلسل بھوک ہڑتال جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے تاکہ پچیس دن سےبھوک ہڑتال کے باعث اسیر کی طبی حالت بری طرح خراب ہوگئی ہے۔
حمدونہ نے بتایا کہ عدنان نے نہ صرف کھانا پینا ترک کررکھا ہے بلکہ اپنا طبی معائنہ کرانے سے بھی انکار کردیا ہے جس کے باعث اب اس کا چلنا پھرنا بھی مشکل ہوگیا ہے۔
انسانی حقوق کے مندوب کا کہنا ہے کہ صہیونی جیل کی انتظامیہ الشیخ خضرعدنان پر نفسیاتی دبائو بڑھا رہی ہے تاکہ وہ اپنی بھوک ہڑتال ترک کردیں۔ انہوں نے انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کی توجہ شیخ عدنان کی بھوک ہڑتال اور ان کی مسلسل بگڑتی صحت کی طرف مبذول کراتے ہوئے ان کی رہائی میں اپنا کردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
خیال رہے کہ الشیخ خضرعدنان کا تعلق اسلامی جہاد کے ساتھ ہے۔ انہیں ایک سال قبل بغیر کسی جرم کے حراست میں لیا گیا تھا جس کے بعد ان کی انتظامی حراست میں باربار توسیع کی جاتی ہے۔ رواں ماہ میں انہوں نے اپنی مسلسل حراست کے خلاف بہ طوراحتجاج بھوک ہڑتال شروع کردی تھی جو آج پچیسویں روز میں جاری ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
