عبرانی اخبار "یدیعوت احرونوت” کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اقوام متحدہ جلد ہی شدت پسند گروپوں اور انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کی مرتکب افواج کو”بلیک لسٹ” قرار دینے کی ایک فہرست جاری کرے گا۔ اس میں القاعدہ، طالبان اور "داعش” خاص طورپر شامل ہیں۔ اقوام متحدہ میں الجزائرکی خاتون مندبہ نے سفارش کی ہے کہ بلیک لسٹ گروپوں میں اسرائیلی فوج کو بھی شامل کیا جائے کیونکہ پچھلے سال غزہ کی پٹی پراسرائیلی فوج نے 51 دن تک جاری رہنے والی جنگ کے دوران 500 بچوں کو نہایت بے رحمی کے ساتھ شہید اور 3300 کو زخمی کردیا تھا۔ اس کے علاوہ اسرائیلی فوج آئے کم عمرفلسطینی بچوں کو حراست میں لے کران سے جنگی مجرموں سے بھی بدترسلوک کرتی ہے۔ اسرائیلی عدالتیں عالمی انسانی حقوق اور بین الاقوامی قوانین کے برعکس کم عمرفلسطینی بچوں کو جیلوں میں بھجواتی ہیں۔ لہٰذا اقوام متحدہ اسرائیلی فوک بھی "دہشت گرد” قرار دیتے ہوئے بلیک لسٹ کرنے کا اعلان کرے۔
یو این مندوبہ کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج کے ہاتھوں نہتے فلسطینی بچوں کے قتل عام کے باعث اقوام متحدہ اور اسرائیل کےدرمیان بھی باربار کشیدگی پیدا ہوتی رہی ہے۔ صہیونی ریاست کو عالمی قوانین اور بچوں کے حقوق کا پابند بنانے کے لیے اس فوج کو بلیک لسٹ کیا جانا وقت کا تقاضا ہے۔
اسرائیلی اخبار لکھتا ہے کہ اقوام متحدہ پر اس وقت ایک جانب انسانی حقوق کی تنظیموں کا دبائو ہے اور دوسری جانب فلسطینی اتھارٹی بھی مسلسل یہ مطالبہ کر رہی ہے کہ عالمی ادارہ فلسطینی بچوں کے ساتھ ہونے والے صہیونی فوج کے ظالمانہ سلوک کا نوٹس لے۔ ایسے میں الجزائرکی مندوبہ کی سفارش نہایت اہمیت کی حامل سمجھی جا رہی ہے۔ مبصرین کے خیال میں اگرچہ اقوام متحدہ میں اسرائیلی فوج کو بلیک لسٹ کیے جانے کا کوئی امکان نہیں لیکن لیلی زوروگی کی سفارش انسانی حقوق کی تنظیموں کی اسرائیل کے خلاف جاری مہمات میں ایک نیا خون دوڑانے میں مدد کرسکتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اسرائیلی فوج کو بلیک لسٹ کیے جانے کے مطالبات میں مزید شدت آنے کا بھی امکان ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
