مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق ترک وزیراعظم رجب طیب ایردوآن نے انقرہ میں واقع جامع مسجد حاجی بایرام میں اپنے پارٹی کے حامیوں کے جلسہ عام سے خطاب میں کہا کہ "ہم ہمیشہ غزہ کی پٹی کے اپنے بھائیوں کے ساتھ کھڑے رہے ہیں۔ اسرائیل نے آگ برسا کر غزہ کو بھسم کرنے اور اسے تباہ وبرباد کرنے میں کوئی کسرنہیں چھوڑی اور ہم ایک دن بھی غزہ کی امداد سے پیچھے نہیں ہٹے ہیں۔ پچھلے ایک سال کے دوران ترکی نےغزہ کی پٹی میں تعمیرنو کی مد میں 76 ملین ڈالر کی رقم بہ طور امداد فراہم کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ غزہ کی پٹی کے عوام کو صحت، تعلیم،پانی، ایندھن اور زندگی کی دیگر ضروریات کے حصول کے لیے ہماری جانب سے مزید امداد بھی دی جائے گی۔ سنہ 2017 ء تک ترکی کی جانب سے غزہ کی پٹی کو دی گئی امداد 200 ملین ڈالر سے تجاوز کرجائے گی۔
ترک صدر نے امداد فراہم کرنے والے ممالک اور عالمی اداروں کے کردار پرکڑی نکتہ چینی کی اور کہا کہ غزہ کی پٹی کی تعمیر نو کے لیے جس جس نے بھی وعدے کیے تھے ایفاء نہیں کیے۔ ترکی واحد ملک ہے جس نے غزہ کی پٹی کے عوام کو وعدوں سے کہیں بڑھ کر امداد فراہم کی ہے۔
صدر ایردوآن کا کہنا تھا کہ بہ حیثیت مسلمان ہم کسی دوسرے انسان میں نسل، رنگ اور علاقے کی بنیاد پر کوئی فرق نہیں کرتے۔ ہم کرد، ترکی، شرکسی، جورجین، بوسنیائی، البان، ابخازی یا کسی بھی دوسرے خطے کے رہنےوالے ہیں لیکن ہم آپس میں بھائی بھائی ہیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
