اسرائیل کےایک عبرانی اخبار”معاریف” کی رپورٹ کے مطابق صہیونی نیشنل بنک کے بائیکاٹ کےبعد فن لینڈ کی حکومت اور تل ابیب کے درمیان ایک نئی کشیدگی دیکھی جا رہی ہے۔ دونوں ملکوں کےدرمیان کشیدگی اس وقت پیدا ہوئی فن لینڈ کی حکومت نے دارالحکومت ھلسنکی میں غیر سرکاری تنظیموں کے زیراہتمام ہونے والی ایک نمائش میں اسرائیل کے قومی بنک کو شامل ہونے کی اجازت دینے سےانکار کردیا۔
اخبار رپورٹ کے مطابق فن لیںڈ میں یہ نمائش ریڈ کراس اور یورپی یونین کے تعاون سے آئندہ ہفتے منعقد ہو رہی ہے جس میں افریقا اور مشرقی وسطیٰ میں سرگرم مالیاتی اداروں کی سرگرمیوں پر خصوصی توجہ مرکوز کی جائے گی۔ تاہم پہلی بار اس نمائش میں اسرائیل کو شرکت سے روک دیا گیا ہے۔
معاریف کے مطابق فن لینڈ کی حکومت کی جانب سے پہلے نیشنل بنک کو شرکت کی دعوت دی گئی تھی تاہم بعد ازاں فن لینڈ کی حکومت کی جانب جاری ایک نئے بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کا نشینل بنک بعض مشکوک سرگرمیوں میں ملوث ہے جس کے باعث اسے نمائش میں شرکت کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے۔
صہیونی نیشنل بنک کو نمائش میں شمولیت کی اجازت نہ دیے جانے کا ردعمل بھی سامنے آیاہے۔ یہودی خواتین کی ایک نمائندہ تنظیم "فیٹسو” نے اسرائیلی نیشنل بنک کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے نمائش میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
نمائش کی انتظامی کمیٹی کے ایک رکن اور جامعہ ھلسنکی سے وابستہ پروفیسر "سیکسی راسنان” نے حکومت کی جانب سے اسرائیل کے نیشنل بنک کے بائیکاٹ کا خیر مقدم کیا ہے اور کہا ہے کہ انہیں حکومت کے فیصلے پرکوئی اعتراض نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیلی بنک کو شرکت سے روکنا اسرائیل کی عالمی سطح پر جاری بائیکاٹ کی تحریک کا حصہ ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
