مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق اسرائیل وزیرکھیل نے بدھ کے روز اپنے ایک بیان میں بتایا کہ وہ اپنے وزارت کا دفتر بیت المقدس منتقل کررہے ہیں۔
اس فیصلے کے رد عمل میں ریاستی کنٹرولر "یوسف شبیرا” کی جانب سے جاری ایک بیان میں فیصلے کاخیر مقدم کیا گیا ہے۔ مسٹرشبیرا نے حکومت سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ وزارتوں کے دفاترکو بیت المقدس منتقل کرنے کے کئی سال پرانے مطالبے پرعمل درآمد کو یقینی بنائے۔ انہوں نے کہا کہ وزیرکھیل و تعلیم کی جانب سے وزارت کا ہیڈ کواٹر تل ابیب سے مقبوضہ بیت المقدس منتقل کرنے کا فیصلہ قابل ستائش ہے۔ تمام وزارتوں کو اس فیصلے کے مطابق اپنی وزارتیں بیت المقدس منتقل کرنی چاہئیں۔
صہیونی وزیرکھیل کی جانب سے اپنی وزارت کے فیصلے پر بیت المقدس میں اسرائیلی میر نیربرکات نے بھی خیرمقدم کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ "میری ریگیب” کا فیصلہ ایک احسن اقدام ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بیت المقدس میں تمام وزارتوں کے دفاتر با آسانی منتقل کیے جاسکتے ہیں۔
اسرائیلی رکن کنیسٹ "روعی فولقمن” نے بھی فیصلے کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ انہیں توقع ہے کہ وزیرکھیل کے فیصلے پر دیگر وزراء بھی عمل درآمد کریں گے اوراپنی اپنی وزارتوں کے دفاتر بیت المقدس منتقل کریں گے۔
درایں اثناء فلسطینی تجزیہ نگار صالح لطفی کا کہنا ہے کہ اسرائیلی وزیرکھیل وتعلیم کی جانب سے اپنی وزارت کے دفاترکو بیت المقدس منتقل کرنے کا فیصلہ اسرائیلی حکومت کی بیت المقدس کو صہیونی ریاست کا "اٹوٹ” انگ بنانے کی پالیسی کا حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیلی حکومت حیلوں بہانوں سے بیت المقدس پراپنا ناجائز تسلط مضبوط کرنا چاہتی ہے۔ وزارتوں کے دفاترکی منتقلی اس کا حصہ ہے۔
لطفی کا کہنا تھا کہ اسرائیلی وزارت کھیل وتعلیم کا دفتر بیت المقدس منتقل کرنا دیگر وزارتوں کے دفاترکی منتقلی کا نقطہ آغاز ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے اداروں کی جانب سے بیت المقدس میں اسرائیل کی سیاسی سرگرمیاں غیرقانونی ہیں لیکن صہیونی ریاست نے بیت المقدس کے حوالے سے عالمی قراردادوں کو دیوار پردے مارا ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
