اسرائیل کی انتہا پسند یہودی تنظیموں کی اپیل پر مقبوضہ بیت المقدس میں آج اتوار کے روز ہونے والےمتنازعہ "فلیگ مارچ” کے موقع پر بڑی تعداد میں پولیس اور فوج تعینات کی گئی ہے، جس نے شہرکی اہم تنصیبات کا کنٹرول سنھبال لیا ہے۔ دوسری جانب بیت المقدس کے فلسطینی شہریوں سے جبری دکانیں بند کرائی جا جارہیں اور ان سے کہا گیا ہے کہ اگردکانیںبند نہ کی گئیں تو یہودی انہیں نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق اسرائیل کی انتہا پسند تنظیموں کی جانب سے آج بیت المقدس میں "یوم اتحاد یروشلم” کے نام سے ایک "فلیگ مارچ” کااہتمام کیا گیا ہے جس میں ہزاروں یہودیوں کو شریک کیا جا رہا ہے۔ اسرائیلی فوج اور پولیس کی بھاری نفری نے اتوار کو علی الصباح بیت المقدس اور مسجد اقصیٰ کے قرب وجوار کے اہم مقامات کو گھیرے میں لے لیا تھا اور مقامی فلسطینی آبادی پر گھروں سے باہرنکلنے پرپابندی عاید کردی تھی۔
قبل ازیں فلسطینی شہریوں کی جانب سے اسرائیلی عدالت میں ایک درخواست دائر کی گئی تھی جس میں موقف اختیار گیا تھا کہ یہودی آباد کار ہرسال "فلیگ مارچ” کی آڑ میں اشتعال انگیز کارروائیاں کرتے ہیں، لہٰذا اس جلوس پرپابندی عاید کی جائے۔ عدالت نے اپنے پچھلے سوموار کو جاری ایک فیصلے میں فلسطینیوںکی درخواست مسترد کرتے ہوئے یہودیوں کوفلیگ مارچ کی اجازت دے دی تھی۔
ادھر بیت المقدس کے مقامی شہریوںنے بتایا ہے کہ شہر میں اسرائیل کی جانب سے غیر اعلانیہ کرفیو لگایا گیا ہے۔ انہیں کہا گیا ہے کہ وہ اپنی دکانیں بند رکھیں اور گھروںسے باہر نہ نکلیں کیونکہ جلوس کے شرکاء ان کے کاروبار کو نقصان پہنچا سکتے ہیں اور دکانیں کھلی دیکھ کر مشتعل ہوسکتے ہیں۔ شہریوںکا کہنا ہے کہ آج کے اشتعال انگیز جلوس میں بڑی تعداد میں یہودی مذہبی مدارس کے طلباٰء بھی شریک کیے جا رہے ہیں تاکہ فلسطینیوں کے خلاف زیادہ سے زہادہ اشتعال انگیزی کا مظاہرہ کیا جاسکے۔
درایں اثناء اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاھو نے آج کے دن کی مناسبت سے بیت المقدس میں ایک نئے ترقیاتی منصوبہ برائے 2020ء کا افتتاح کررہے ہیں۔ اس منصوبے کے تحت مشرقی اور مغربی بیت المقدس میں مزید یہودی بستیوں کی تعمیر اور یہودیوں کے لیے انفراسٹرکچر تعمیر کرنا ہے۔
خیال رہے کہ سنہ 1948ء میں قیام اسرائیل کے بعد صہیونی فوج نے مغربی بیت المقدس کے کچھ حصوں پرقبضہ کرلیا تھا۔ سنہ 1967ء کی عرب ۔ اسرائیل جنگ میں عربوں کی ناکامی کے بعد اسرائیل نے پورے بیت المقدس پرقبضہ کرلیا تھا، جسے بعد ازاں ضم کردیا گیا۔ یہودی اسےمتحدہ یروشلم کا نام دیتے ہیں اور اس کی یاد میں ہرسال مئی میں ایک ہفتہ منایا جاتا ہے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق اسرائیل کی انتہا پسند تنظیموں کی جانب سے آج بیت المقدس میں "یوم اتحاد یروشلم” کے نام سے ایک "فلیگ مارچ” کااہتمام کیا گیا ہے جس میں ہزاروں یہودیوں کو شریک کیا جا رہا ہے۔ اسرائیلی فوج اور پولیس کی بھاری نفری نے اتوار کو علی الصباح بیت المقدس اور مسجد اقصیٰ کے قرب وجوار کے اہم مقامات کو گھیرے میں لے لیا تھا اور مقامی فلسطینی آبادی پر گھروں سے باہرنکلنے پرپابندی عاید کردی تھی۔
قبل ازیں فلسطینی شہریوں کی جانب سے اسرائیلی عدالت میں ایک درخواست دائر کی گئی تھی جس میں موقف اختیار گیا تھا کہ یہودی آباد کار ہرسال "فلیگ مارچ” کی آڑ میں اشتعال انگیز کارروائیاں کرتے ہیں، لہٰذا اس جلوس پرپابندی عاید کی جائے۔ عدالت نے اپنے پچھلے سوموار کو جاری ایک فیصلے میں فلسطینیوںکی درخواست مسترد کرتے ہوئے یہودیوں کوفلیگ مارچ کی اجازت دے دی تھی۔
ادھر بیت المقدس کے مقامی شہریوںنے بتایا ہے کہ شہر میں اسرائیل کی جانب سے غیر اعلانیہ کرفیو لگایا گیا ہے۔ انہیں کہا گیا ہے کہ وہ اپنی دکانیں بند رکھیں اور گھروںسے باہر نہ نکلیں کیونکہ جلوس کے شرکاء ان کے کاروبار کو نقصان پہنچا سکتے ہیں اور دکانیں کھلی دیکھ کر مشتعل ہوسکتے ہیں۔ شہریوںکا کہنا ہے کہ آج کے اشتعال انگیز جلوس میں بڑی تعداد میں یہودی مذہبی مدارس کے طلباٰء بھی شریک کیے جا رہے ہیں تاکہ فلسطینیوں کے خلاف زیادہ سے زہادہ اشتعال انگیزی کا مظاہرہ کیا جاسکے۔
درایں اثناء اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاھو نے آج کے دن کی مناسبت سے بیت المقدس میں ایک نئے ترقیاتی منصوبہ برائے 2020ء کا افتتاح کررہے ہیں۔ اس منصوبے کے تحت مشرقی اور مغربی بیت المقدس میں مزید یہودی بستیوں کی تعمیر اور یہودیوں کے لیے انفراسٹرکچر تعمیر کرنا ہے۔
خیال رہے کہ سنہ 1948ء میں قیام اسرائیل کے بعد صہیونی فوج نے مغربی بیت المقدس کے کچھ حصوں پرقبضہ کرلیا تھا۔ سنہ 1967ء کی عرب ۔ اسرائیل جنگ میں عربوں کی ناکامی کے بعد اسرائیل نے پورے بیت المقدس پرقبضہ کرلیا تھا، جسے بعد ازاں ضم کردیا گیا۔ یہودی اسےمتحدہ یروشلم کا نام دیتے ہیں اور اس کی یاد میں ہرسال مئی میں ایک ہفتہ منایا جاتا ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
