فلسطین کے مقبوضہ بیت المقدس شہر میں سماجی تنظیموں اور سرکردہ شخصیات نے کل اتوار کو یہودی آباد کاروں کی جانب سے ’’یوم توحید یروشلم” کے نام سے ایک اشتعال انگیز ریلی کے خلاف "نفیر عام” کا اعلان کیا ہے اور فلسطینی شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ اپنے گھروںسے نکل کرمسجد اقصیٰ میں جمع ہوں تاکہ یہودی آباد کاروں کی اشتعال انگیزی کو روکا جاسکے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق "نفیرعام” کا اعلان نہ صرف بیت المقدس میں کیا گیا بلکہ سنہ 1948ء کے مقبوضہ علاقوں میں بھی مقامی تنظیموں کی جانب سے شہریوںسے بیت المقدس میں جمع ہونے کی اپیل کی گئی ہے۔
خیال رہے کہ حال ہی میں یہودی انتہا پسند تنظیموں بالخصوص قبلہ اول کی جگہ مذموم ہیکل سلیمانی کی تعمیرمیں سرگرم شدت پسند گروپوں”اتحاد برائے ہیکل تنظیمات” اور ویمن آرگنائزیشن برائے ہیکل” کی جانب سے اتوار کے روز بیت المقدس میں مسجد اقصیٰ تک ایک اشتعال انگیزمارچ منعقد کرنے کا اعلان کیا گیا۔ اس مارچ کا مقصد زیادہ سے زیادہ یہودی آباد کاروں کو قبلہ اول میں جمع کرنا اور مقدس مقام کی بے حرمتی کرنا ہے۔
یہودی آباد کاروںکی جانب سے ایک انتہا پسند یہودی ربی یہودا گلیک کو بھی شرکت کی دعوت دی گئی ہے جو مہمان خصوصی کے طورپر قبلہ اول میں یہودیوں کے پروگرام میں شرکت کرے گا۔ خیال رہے کہ یہودا گلیک کو چند ماہ قبل بیت المقدس میں ایک فلسطینی شہری نے قاتلانہ حملے میں زخمی کردیا تھا۔ اس نے ایک بار پھرقبلہ اول کے خلاف ریشہ دوانیاں شروع کردی ہیں۔
ادھر اسرائیلی حکام کی جان سے ایک پمفلٹ بھی تقسیم کیا گیاہے جس میں بتایا گیا ہے کہ اتوار کے روز یہودیوںکی غیرمعمولی تعداد باب العامود سے داخل ہونے کے بعد شاہراہ الواد سے ہوتے ہوئے دیوار براق تک پہنچے گے۔ اتوار کے روز قبلہ اول پر یلغار کرنے والے یہودیوںکی تعداد 50 ہزار سے زیادہ ہوسکتی ہے۔
صہیونی حکام کی جانب سے فلسطینی شہریوںسے کہا گیا ہے کہ وہ شاہراہ الواد کے قریب اپنی دکانیں بند رکھیں اور دکانوں سے باہر کسی قسم کا سامان نہ چھوڑیں کیونکہ ایسا کرنے سے یہودی آباد کاروں کی ریلی میں خلل پڑسکتا ہے۔
خیال رہے کہ یہودی مئی کے مہینے میں مشرقی اور مغربی بیت المقدس کے انضام کے حوالے سے "متحدہ یروشلیم” کے نام سے ریلیاں نکالتے ہیں۔ چند ہفتے قبل یہودیوں کی بیت المقدس میں "فلیگ مارچ” کے نام سے بھی ایک متنازعہ ریلی نکالی تھی۔فلسطینیوںکی جانب اسرائیلی عدالت میں ایک درخواست دائر کی گئی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ یہودی آباد کاروں کی یہ ریلیاں بیت المقدس میں اشتعال انگیزی کا موجب بنتی ہیں لہٰذا ان پرپابندی عاید کی جائے تاہم عدالت نے فلسطینی درخواست مسترد کردی تھی۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق "نفیرعام” کا اعلان نہ صرف بیت المقدس میں کیا گیا بلکہ سنہ 1948ء کے مقبوضہ علاقوں میں بھی مقامی تنظیموں کی جانب سے شہریوںسے بیت المقدس میں جمع ہونے کی اپیل کی گئی ہے۔
خیال رہے کہ حال ہی میں یہودی انتہا پسند تنظیموں بالخصوص قبلہ اول کی جگہ مذموم ہیکل سلیمانی کی تعمیرمیں سرگرم شدت پسند گروپوں”اتحاد برائے ہیکل تنظیمات” اور ویمن آرگنائزیشن برائے ہیکل” کی جانب سے اتوار کے روز بیت المقدس میں مسجد اقصیٰ تک ایک اشتعال انگیزمارچ منعقد کرنے کا اعلان کیا گیا۔ اس مارچ کا مقصد زیادہ سے زیادہ یہودی آباد کاروں کو قبلہ اول میں جمع کرنا اور مقدس مقام کی بے حرمتی کرنا ہے۔
یہودی آباد کاروںکی جانب سے ایک انتہا پسند یہودی ربی یہودا گلیک کو بھی شرکت کی دعوت دی گئی ہے جو مہمان خصوصی کے طورپر قبلہ اول میں یہودیوں کے پروگرام میں شرکت کرے گا۔ خیال رہے کہ یہودا گلیک کو چند ماہ قبل بیت المقدس میں ایک فلسطینی شہری نے قاتلانہ حملے میں زخمی کردیا تھا۔ اس نے ایک بار پھرقبلہ اول کے خلاف ریشہ دوانیاں شروع کردی ہیں۔
ادھر اسرائیلی حکام کی جان سے ایک پمفلٹ بھی تقسیم کیا گیاہے جس میں بتایا گیا ہے کہ اتوار کے روز یہودیوںکی غیرمعمولی تعداد باب العامود سے داخل ہونے کے بعد شاہراہ الواد سے ہوتے ہوئے دیوار براق تک پہنچے گے۔ اتوار کے روز قبلہ اول پر یلغار کرنے والے یہودیوںکی تعداد 50 ہزار سے زیادہ ہوسکتی ہے۔
صہیونی حکام کی جانب سے فلسطینی شہریوںسے کہا گیا ہے کہ وہ شاہراہ الواد کے قریب اپنی دکانیں بند رکھیں اور دکانوں سے باہر کسی قسم کا سامان نہ چھوڑیں کیونکہ ایسا کرنے سے یہودی آباد کاروں کی ریلی میں خلل پڑسکتا ہے۔
خیال رہے کہ یہودی مئی کے مہینے میں مشرقی اور مغربی بیت المقدس کے انضام کے حوالے سے "متحدہ یروشلیم” کے نام سے ریلیاں نکالتے ہیں۔ چند ہفتے قبل یہودیوں کی بیت المقدس میں "فلیگ مارچ” کے نام سے بھی ایک متنازعہ ریلی نکالی تھی۔فلسطینیوںکی جانب اسرائیلی عدالت میں ایک درخواست دائر کی گئی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ یہودی آباد کاروں کی یہ ریلیاں بیت المقدس میں اشتعال انگیزی کا موجب بنتی ہیں لہٰذا ان پرپابندی عاید کی جائے تاہم عدالت نے فلسطینی درخواست مسترد کردی تھی۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
