مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق مغربی کنارے میں انسانی حقوق کے کارکن ریاض الاشقر نے میڈیا کو بتایا کہ صہیونی فوجیوں نے ابراہیم مصطفیٰ عبدالفتاح صیام کو رام اللہ کے قریب لقیا کے مقام سے حراست میں لیا۔ وہ اردن سے رام اللہ میں ایک تجارتی کانفرنس میں شرکت کی غرض سے آئے تھے اور واپس جانے کی کوشش کررہے تھے۔ ان کی گرفتاری کی وجہ معلوم نہیں ہوسکی ہے۔
ریاض الاشقر نے بتایا کہ حراست میں لیے گئے فلسطینی تاجر ایک مخیر شخصیت ہیں جو مشکل وقت میں فلسطینی شہریوں بالخصوص غزہ کی پٹی کے محصورین کی بھی مدد کرتے رہتے ہیں۔ حال ہی میں انہوں نے غزہ کی پٹی میں اسکوک کے بچوں کے لیے 17 ہزار اسکول بیگ بھی فراہم کیے تھے۔
انہوں نے بتایا کہ مغربی کنارے میں کسی فلسطینی تاجر کی اسرائیلی فوجیوں کےہاتھوں گرفتاری کا یہ پہلا واقعہ نہیں بلکہ رواں سال کے دوران قابض فوجی اب تک 19 تاجروں اور کاروباری حضرات کوحراست میں لے چکے ہیں۔ ان میں سے بعض کو رہا کردیا گیا تھا تاہم کچھ ابھی تک زیر حراست ہیں۔ حراست میں لیے گئے زیادہ تر تاجروں کا تعلق غزہ کی پٹی سے ہے جو تجارتی مقاصد کے لیے مغربی کنارے میں داخل ہوئے لیکن انہیں حراست میں لے لیا گیا۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
