بیت المقدس کے ایک مقامی ذریعے نے بتایا کہ جمعرات کی شام یہودی انتہا پسندوں کا ایک گروپ سخت سیکیورٹی میں مسجد اقصیٰ میں داخل ہوا اور انہوں نےوہاں پر موجود ایک فلسطینی بچے کو وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا۔ قبلہ اول کے حفاظتی عملے نے بچے پرتشدد ہوتے دیکھا تو یہودی آباد کاروں کو روکنے کی کوشش کی تاہم انتہا پسندوں نے محافظوں کو بھی تشدد کا نشانہ بنانے کی کوشش کی۔ اس دوران دونوں اطراف سے ایک دوسرے پر بھرپور اور کیے گئے۔
’’کیو پریس‘‘ کے مطابق یہودی آباد کاروں نے ایک کم سن بچےکو اس وقت تشدد کا نشانہ بنایا جب وہ یہودیوں کو دیکھ کر نعرہ تکبیر[اللہ اکبر] لگانے لگا۔ یہودی آباد کاروں نے اسے پکڑ کرتشدد کا نشانہ بنایا جس پر محافظوں کو بھی مداخلت کرنا پڑی۔ قبلہ اول کے محافظوں اور نمازیوں کی بروقت کارروائی سے نہ صرف بچے کو بچالیا گیا بلکہ یہودی شرپسندوں کے گروپ کو بھی قبلہ اول سے نکال دیا گیا۔
مقامی ذرائع نے بتایا کہ جمعرات کے روز یہودی آباد کاروں اور اسرائیلی خفیہ اداروں کے اہلکاروں کی قبلہ اول آمد کا سلسلہ جاری رہا۔ پہلے یہودی آباد کاروں کا ایک 30 رکنی گروپ قبلہ اول میں داخل ہوا۔ شام کے وقت 14 یہودی آباد کار داخل ہوئے جبکہ دن میں 40 صہیونی انٹیلی جنس اہلکاروں نے قبلہ اول میں گھس کر اس کی بے حرمتی کی۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
