مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق اپنے ایک بیان میں احمد الرویضی کا کہنا تھا کہ ’’اسرائیلی حکومت اور اس کے تمام ادارے اشتعال انگیز طریقے سے اپنے مذموم منصوبے قبلہ اول پر مسلط کرنے کی سازشیں کررہے ہیں۔ اسرائیلی وزارت داخلہ کی جانب سے بیت المقدس میں یہودی توسیع پسندی اور سیاسی سرگرمیوں کو جواز فراہم کرنے کے لیے آئین کا سہارا لینے کی کوشش کررہی ہے۔ نام نہاد آئین اور قانون کی آڑ میں بیت المقدس کے مقامی باشندوں کے خلاف پابندیاں عاید کی جا رہی ہیں۔ فلسطینی شہریوں کی املاک کو مال متروکہ قرار دے کرانہیں ضبط کیا جا رہاہے۔ بیت المقدس سے تعلق رکھنے والے سیاسی رہ نمائوں اور آئین ساز کونسل کے ارکان کو شہرسے بے دخل کرنےکے لیے بھی نام نہاد آئین اور قانون ہی کا سہارا لیا جا رہا ہے۔ فلسطینی شہریوں کے مکانات کی مسماری کے لیے بھی جعلی آئین گھڑے گئے ہیں۔ بیت المقدس میں یہودی توسیع پسندی میں سرگرم ’العاد‘ جیسی انتہا پسند یہودی تنظیموں کو کھل کھیلنے کی اجازت بھی آئین ہی کے سہارے دی گئی ہے تاکہ وہ صہیونی ریاست کے وضع کردہ پلان کے تحت خاکوں میں رنگ بھر سکیں۔
احمد الرویضی نے ابو نامی نامی فلسطینی شہری کے تین مکانوں پر یہودی آباد کاروں کے غاصبانہ قبضے کی شدید مذمت کی اور کہا کہ بیت المقدس میں فلسطینیوں کی املاک پرقبضے کے لیے جعلی قوانین کا سہارا لینے کے سنگین نتائج سامنے آئیں گے۔
فلسطینی اتھارٹی کے عہدیدار نے انکشاف کیا کہ اسرائیل بیت المقدس کے 20 ہزار مکانات کو مسمار کرنے کی منصوبہ بندی کررہا ہے۔ انہوں نے بتایاکہ اسرائیل ایک منظم سازش کے تحت بیت المقدس کے 22 فی صد باشندوں کے مکانات کو مسمار کرکے فلسطینیوں کو وہاں سے نکالنے کی سازش کررہا ہے۔ اس مذموم سازش کو عملی شکل دینے کے لیے نام نہاد قوانین کا سہارا لیا جاتا ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
