مرکزاطلاعات فلسطین کے ادارے ’’اسیران ومحررین کمیٹی‘‘ کی مندوب ھبہ مصالحہ نےاسرائیلی جیلوں کے دورے کے بعد ایک رپورٹ مرتب کی ہے جس میں بتایا گیاہے کہ دوران حراست کم عمربچوں کے ساتھ غیرانسانی سلوک روا رکھاجاتا ہے۔ دوران حراست کم عمر بچوں سے تفتیش کے دوران وحشت وبریریت کی بدترین مثالیں قائم کی جاتی ہیں۔
المصالحہ نے بتایا کہ ہشارون جیلوں میں کم عمربچوں سے ملاقات کی۔ بچوں نے بتایا کہ انہیں روز مرہ کی بنیاد پر وحشیانہ اور خوفناک نوعیت کے تفتیشی مراحل سے گذارا جاتا ہے۔ انہیں زنجیروں میں باندھ کر گھیسٹا جاتا ہے، وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ بجلی کے جھٹکے لگائے جاتے ہیں اور نفسیاتی تشدد کرتے ہوئے اہل خانہ کو بھی شامل تفتیش کرنے کی دھمکیاں دی جاتی ہیں۔
انسانی حقوق کی مندوبہ کا کہنا ہے کہ اسرائیلی جیلوں میں فلسطینی اسیران بالخصوص کم عمراسیران کی صورت حال نہایت ناگفتہ بہ ہے۔ قیدیوں کے حقوق کا خیال تو درکنار اسیران کے حوالے سے عالمی قوانین کا سرعام مذاق اڑایاجاتا ہے۔
ھبہ المصالحہ نے بتایا کہ اس کی ملاقات ایک 16 سالہ احمد عدنان منا نامی ایک بچے سے ہوئی۔ اسے بیت المقدس سے 04 فروری کو صہیونی فوجیوں پر سنگ باری کے الزام میں حراست میں لیا گیا تھا۔ اس نے بتایا کہ دوران حراست اس کے ساتھ بار بار وحشیانہ سلوک کیا جاتا ہے۔ بری طرح مارا پیٹا جاتا ہے۔
عدنان نے بتایا کہ اسے صبح پانچ بجے اس کے گھرسے اٹھا کر ایک فوجی جیپ میں ڈالا گیا۔ اس کے بعد مجھے القشلہ حراستی مرکز میں لے جایا گیا۔ میرے دونوں ہاتھوں کو باندھا گیا تھا۔ مجھے اسی حالت میں باتھ روم میں لے جایا گیا جہاں تفتیش کاروں نےمجھے پکڑ کرالٹا لٹکایا اور میرا سر ٹوائلٹ کی سیٹ میں رکھ دیا گیا۔ ٹوائلٹ کی کریہہ بدبو سے میرا سرچکرانے لگا لیکن انہوں نے مجھے اسی حالت میں لٹکا دیا تھا۔ میں بے بس تھا اور کچھ نہیں کرسکتا تھا۔ ٹوائلٹ کی سیٹ کے گندے پانی سے میرامنہ اور ناک بھرگئے اور میرا دم گھٹ گیا مگر مجھے وہیں رکھا گیا۔
وہاں سے مجھے نکال کے ایک تاریک کمرے میں لے جایا گیا جہاں سادہ کپڑوں میں ملبوس چار افراد نے آتے مجھے وحشیانہ طریقے سے مارنا پیٹنا شروع کردیا۔ انہوں نے مجھے اٹھایا اور زور سے زمین پر پٹخ دیا اور وہ چاروں میرے اوپر چڑھ کر کھڑےہوئے۔ وحشیانہ تشدد سے میرے ہوش وحواس ختم ہوگئے۔
جب ہوش آیا تو اس وقت میں مسکوبیہ جیل میں تھا۔ وہاں بھی مجھے المناک تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور دھکی دی جاتی کہ اگر میں نے اقرار جرم نہ کیا تو وہ میری والدہ کو گرفتار کرکے اسے میرے سامنے اجتماعی عصمت ریزی کا نشانہ بنایائیں گے۔ یوں 23 دن تک میں مسکوبیہ حراستی مرکز میں رہا جہاں سے مجھے ہشارون جیل منتقل کردیا گیا۔
انسانی حقوق کی تنظیم کے مطابق احمد عدنان منا کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کو صہیونی جیلوں میں زیرحراست فلسطینی قیدیوں کے ساتھ بدسلوکی کی مثال کے طورپر پیش کیا جاسکتا ہے۔ اس نوعیت کا شرمناک سلوک کسی ایک فلسطینی بچے کے ساتھ نہیں ہورہا ہے بلکہ ہر فلسطینی قیدی کو خواہ وہ چھوٹا ہو یا بڑا، خاتون ہو یا مرد اسی طرح یا اس سے بھی گھنائونے سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
