مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق اسرائیلی فوجی’’ارییہ‘‘ نے فرانسیسی اخبار’’لی موند‘‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں غزہ جنگ کے حوالے سے اہم اعترافی انکشافات کیے ہیں۔ اس کا کہنا ہے کہ ہمیں بغیر تیاری کے اچانک کہا گیا کہ غزہ کی پٹی کی طرف ٹینک روانہ کرنے کی تیاری کی جائے۔ ہم نے ٹینک تیار کرنا شروع کیے لیکن ہمیں اگلی منزل کے بارے میں کچھ نہ بتایا گیا۔ کچھ دیر بعد ہمیں ہدایت دی گئی کہ آپ غزہ کی پٹی کی قریب پہنچ کر 200 میٹر قطر کا ایک دائرہ بنائیں اور آگے بڑھنا شروع کریں۔ اس دائرے کے اندر آنے والی ہر متحرک چیز کو اڑا دیں۔
فوجی اہلکار نے کہا کہ جنگ کے دوران ہمارے ساتھ محض تفریح کی خاطر نہتے فلسطینیوں کا قتل عام کرتے اور شہری مقامات کو بمباری کا نشانہ بناتے ہے۔
ارییہ نے انکشاف کیا کہ ایک روز صبح آٹھ بجے ہمیں غزہ کی پٹی میں البریج کی جانب روانہ ہونے کو کہا گیا۔ یہ علاقہ گنجان آباد ہے۔ اس کے بعد ہمارے سینیر کمانڈر نے حکم دیا کہ ہم اپنا اپنا ہدف خود مختص کریں اور اس کے بعد ہدف کو نشانہ بنا کراندھا دھند گولہ باری شروع کردیں۔ پھر ہم سے ہرایک نے ایسے ہی کیا۔ اس وقت ہمیں حماس کا کوئی جنگجو دکھائی نہیں دیا اور نہ ہی ہم پرکسی طرف سے کوئی جوابی فائر کیاگیا لیکن ہمارے فوجی کمانڈر نے ہنستے ہوئے کہا کہ آج ہم اپنی فوج کے لیے البریج کا تحفہ لے کرجائیں گے۔
صہیون فوجی کا مزید کہنا تھا کہ ایک روز ہمارا ایک ساتھی اہلکار مارا گیا۔ ہمیں کمان کرنے والے کرنل نے حکم دیا کہ ہم اس کا انتقام لیں۔ اس کے بعد ہمیں کہا گیا کہ چار کلو میٹر تک جو کچھ دکھائی دے رہا ہے بمباری سے تباہ کردیا جائے۔ میں اور میرے ساتھیوں نے ایک 11 منزلہ عمارت کو نشانہ بنایا اور وہ زمین بوس ہوگئی۔ اس میں درجنوں خاندان رہائش پذیرتھے جو سب کے سب ملبے تلے دب کر مارے گئے۔ مجھے پورا یقین ہےکہ وہ سب بے گناہ تھے۔
ایک سوال کے جواب میں اسرائیلی فوجی کا کہنا تھا کہ جنگ کا مقصد حماس کو نقصان پہنچانا نہیں بلکہ غزہ کی پٹی کا انفرااسٹرکچر تباہ کرنا تھا۔ ہم غزہ کی پٹی میں 19 جولائی کو داخل ہوئے اور حماس کی کھودی گئی سرنگیں تلاش کرنے لگے۔ ہمیں کہا گیا کہ ہمارا ہدف حماس کا زیرزمین نیٹ ورک تباہ کرنا ہے۔ حماس کا نیٹ ورک تو اتنا تباہ نہ ہوا مگر غزہ کی پٹی کی زراعت اور معیشت کا دیوالیہ ضرور نکال دیا گیا تاہم یہ بھی حماس کے لیے ایک واضح پیغام تھا کہ وہ آئندہ ہمارے ساتھ پنجہ آزمائی سے قبل ضرور سوچ بچار کرے گی۔
صہیونی اہلکار نے کہا کہ ہم نے رہائشی مکانات، کھیتوں، دفاتر، بجلی کے کھمبوں اور ایسی ایسی چیزوں سے بمباری کا نشانہ بنایا جن کا کسی مزاحمتی تنظیم سے کوئی تعلق نہیں تھا بلکہ وہ عموما شہریوں کی بنیادی ضروریات کا حصہ تھیں۔
صہیونی فوجی کا کہنا تھا کہ ہمیں کہا گیا تھا کہ ٹینک کے سامنے اگر کوئی شخص کھڑا دکھائی دے تو اس پر فورا گولی چلا دینا اور اسے زندہ نہ چھوڑنا۔
خیال رہے کہ اسرائیلی فوجی کا یہ انٹرویو ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دوسری جانب حال ہی میں انسانی حقوق کی ایک تنظیم نے انکشاف کیاہے کہ غزہ جنگ میں اسرائیلی فوجیوں نے دانستہ طورپر عام شہریوں کا وحشیانہ قتل عام کیا تھا۔ پچھلے سال جولائی اور اگست کے دوران غزہ کی پٹی پر اکاون روز تک جاری رہنے والے اسرائیل کے فضائی، زمینی اور بحری حملوں میں 2300 سے زاید فلسطینی شہید اور 11 ہزار سے زاید زخمی ہو گئے تھے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
