مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق اسرائیل میں سرگرم انسانی حقوق کی تنظیم’’بیمکوم‘‘ کی جانب سے منگل کے روز جاری ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پچھلے سال قابض صہیونی حکام نے مغربی کنارے میں 493 مکانات مسمار کیے جس کے نتیجے میں 969 فلسطینی بے گھر ہوئے۔ اس کے مقابلے میں مغربی کنارے میں یہودی آباد کاروں کو مکانات کی تعمیر کی کھلی چھوٹ دی گئی جس کے بعد غرب اردن میں یہودی آباد کاروں کی تعداد 04 لاکھ سے تجاوز کرگئی ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیم کا کہنا ہے کہ صہیونی سپریم کورٹ میں ایک درخواست زیر سماعت ہے جس میں سنہ 1967 ء کے علاقوں میں فلسطینیوں کو مکانات کی تعمیر کی اجازت دینے کی اپیل کی گئی ہے۔ اگر عدالت کی جانب سے سنہ 1971 ء میں فلسطینیوں پر مغربی کنارے میں تعمیرات پرعاید پابندی اٹھالی گئی تو فلسطینیوں کو اپنے پرانے مکانات دوبارہ تعمیرکرنے یا نئے مکانات کی تعمیر کا موقع مل جائے گا تاہم یہ اسرائیلی عدالت کے فیصلے پر منحصر ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
